نگران حکومت کی تشکیل او ر ا نتخا با ت میں کا میا بی کا مر حلہ


Mian Fayyaz Ahmed Posted on June 13, 2018

ما ہِررو اں کی پا نچ تا ر یخ کو نگر ا ن حکو مت کے نگر ا ن و ز یرِا عظم کی چھ ر کنی کا بینہ کے حلف ا ٹھا نے کے بعد بڑا مسلۂ پنجا ب کے نگر ا ن و ز یرِ ا علیٰ کی تقر ر ی کا رہ گیا تھا۔ اب یہ مسلۂ بھی حسن عسکری کو یہ قلم د ا ن سو نپ د ینے کے بعد انجا م پذ یر ہو چکا ہے۔ اس کے سا تھ ہی سا تھ الیکشن کمیشن نے علا ؤ ا لد ین کو بلو چستا ن کے و ز یرا عظم کا قلم دا ن سو نپ د یا ہے۔ نگر ا ن و ز یر ا عظم کی کابینہ میں سابق گورنر سٹیٹ بینک شمشاد اختر، عبداللہ حسین ہارون، روشن خورشید بروچہ، اعظم خان، سید علی ظفر اور محمد یوسف شامل ہیں۔ حلف برداری کے بعد وزراء کو قلمدان بھی سونپ دیئے گئے ہیں۔

نگران وزیراعظم اور ان کی کابینہ نے صدر ممنون سے ملاقات کی۔ صدر نے کابینہ کو مبارک باد دی اور جمہوری حکومت کے دوسری دفعہ اپنی مدت پوری کرنے کو باعث مسرت قرار دیا۔ بلاشبہ جمہوری عمل کا تسلسل قومی سطح پر سیاست دانوں کے جمہوری رویوں اور پارلیمانی اقدار سے وابستگی کا مظہر ہے۔

ورنہ جمہوریت کے تسلسل کے ٹو ٹ جا نے کی قیاس آرائیاں اعصاب شکن تھیں۔ میڈیا کے مطابق کابینہ ڈویژن کے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق عبداللہ حسین ہارون کو وزارت خارجہ اور قومی سلامتی ڈویژن کا قلمدان دیا گیا جب کہ وزارت دفاع و دفاعی پیداوار کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہوگا۔ عبداللہ حسین ہارون کا تعلق کراچی کے مشہور ہارون خاندان سے ہے اور وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب اور سندھ اسمبلی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر کو وزارت خزانہ، شماریات اور وزارت منصوبہ بندی کا قلمدان دیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ وزارت تجارت اور وزارت زراعت صنعت و پیداوار کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہوگا۔ڈاکٹر شمشاد اختر عالمی بینک کی نائب صدر اور 2006ء سے 2009ء تک سٹیٹ بینک آف پاکستان کی گورنر رہ چکی ہیں۔ اس سے قبل وہ 2004ء میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی ڈائریکٹر تھیں۔ ڈاکٹر شمشاد اختر اقوام متحدہ میں انڈرسیکرٹری جنرل اور سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون کی سینئر مشیر بھی رہ چکی ہیں۔ محمد اعظم خان کو وزارت داخلہ، کیڈ اور نارکوٹکس کنٹرول کا قلمدان دیا گیا ہے اور ان کے پاس وزارت بین الصوبائی رابطہ کا اضافی چارج بھی ہوگا۔ اعظم خان ریٹائرڈ سینئر بیوروکریٹ ہیں اور وہ چیف سیکرٹری خیبرپختونخواہ کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اور مذہبی امور بھی رہ چکے ہیں۔

وفاقی کابینہ میں بیرسٹر سید علی ظفر کو وزارت قانون و انصاف، وزارت پارلیمانی امور اور وزارت اطلاعات کا قلمدان دیا گیا ہے۔ بیرسٹر علی ظفر ممتاز ماہر قانون ایس ایم ظفر کے صاحبزادے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں عدالتی معاون بھی مقرر کیا تھا۔ روشن خورشید بروچہ کو وزارت انسانی حقوق، کشمیر و گلگت بلتستان امور اور وزارت سیفران کاقلمدان دیا گیا ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی روشن خورشید سوشل ورک میں ماسٹر ڈگری رکھتی ہیں۔

وہ پرویز مشرف کے دور حکومت میں 2000ء سے 2002ء تک صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر بھی رہ چکی ہیں۔ یوسف شیخ کو وزارت وفاقی تعلیم پیشہ ورانہ تربیت کا چارج دیا گیا ہے۔ جبکہ وزارت صحت اور وزارت مذہبی امور کا اضافی چارج بھی ان کے پاس ہوگا۔ شیخ محمد یوسف نے تمام زندگی تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ وہ کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں اور آرمی ایجوکیشن کور سے ریٹائرڈ میجر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس نگران ٹیم کے کاندھوں پر، پُرامن اور تشدد سے پاک انتخابات کی انعقاد کی بھاری ذمہ داری آگئی ہے جسے اسے احسن طریقے سے پورا کرنا ہی اس کی کا میا بی شما ر کیا جا ئے گا۔

ا و پر بیا ن کیئے گئے نگر ا ن حکو مت کے انتخا ب سے یہ با ت سا منے آ تی ہے کہ اس کے ہر ر کن کے چنا ؤ میں اس کی تعلیمی قا بلیت کو ا و لیں تر جیح دی گئی ہے۔ بلا شبہ یہ خو ش کن ا قد ا م ہے ۔ تا ہم اب قوم یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ناصرالملک کی نگران ٹیم اپنی اس محدود آئینی مدت میں ملکی پالیسیوں کو کس قدر شفافیت کے ساتھ آگے لے کر جاتی ہے۔ نگران وفاقی وزیر داخلہ اعظم خان نے حلف اٹھانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پرامن شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کو پوری سپورٹ دیں گے۔

عام حالات میں فوج کو بلانا نہیں چاہوں گا، اگر ضروری ہوا تو بلائیں گے۔ ہم پُر امن انتخابات کو یقینی بنائیں گے۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا معاشی صورتحال کو مستحکم بنانا ان کی ترجیح ہوگی۔ وزیر خارجہ عبداللہ حسین ہارون نے کہا ملک کا تشخص بلند کرنے کے لیے ان کے پاس کئے نئے آئیڈیاز ہیں۔ تاہم وزیراعظم کی رہنمائی کے تحت یہ اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیر قانون علی ظفر کا کہنا تھا کہ ان کی ترجیح عام انتخابات کے منصفانہ، شفاف اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی معاونت کرنا ہوگی۔

وزیر انسانی حقوق روشن خورشید بروچہ نے زور دیا کہ خواتین اور انسانی حقوق کے مسائل ان کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور وہ ان مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیں گی۔ روشن خورشید بروچہ کا تعلق بلوچستان کے پارسی قبیلے سے ہے۔نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصرالملک نے اپنے پہلے اہم اقدام کے طور پر ملک میں بدترین لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لے لیا اور ڈسکوز میں بھاری نقصانات پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ملک بھر میں بجلی کی صورت حال بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ نگران وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سیکرٹری توانائی، ایم ڈی پیپکو اور ایم ڈی این ٹی ڈی سی نے شرکت کی اور نگران وزیر اعظم کو شعبہ توانائی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔

لوڈ شیڈنگ نگران حکومت کے لیے درد سر رہے گی کیونکہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا کہ ان کی حکومت نے 10 ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں ڈال دی ہے، اگر لوڈشیڈنگ ہورہی ہے تو اس کی ذمہ دار نگران حکومت ہے۔ الیکشن کمیشن نے متفقہ طور پر جسٹس (ر) دوست محمد خان کو خیبرپختونخواہ کا نگراں وزیر اعلیٰ مقرر کردیا ہے جبکہ سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال خان کی جانب سے نگران وزیر اعلیٰ کے معاملے پر 6 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا باضابطہ اجلاس بدھ کو پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پارلیمانی کمیٹی میں رانا ثناء اللہ خان، خواجہ عمران نذیر اور ملک محمد احمد خان جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے میاں محمود الرشید، سبطین خان اور محمدشعیب صدیقی کے شامل ہونے کی اطلاع تھی۔ البتہ یہا ں یہ کہنے میں کو ئی عا ر نہیں کہ نگر ا ن حکو مت کے ار کا ن کا ما ضی او ر تعلیمی قا بلیت اپنی جگہ، مگر وہ پہلے سے طے شد ہ شیڈو ل کے مطا بق شفا ف انتخا با ت منعقد کر و ا نے میں کس حد تک کا میا ب ہوتی ہے، اس کا ا صل امتحا ن ہے۔