نواب صادق خان عباسی کی برسی پر ایک زبردست تحریر،ان کی زندگی کا نچوڑ ایک تحریر میں


Mian Fayyaz Ahmed Posted on May 21, 2018

الحاج ہز ہائی نس نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی وہ محسن پاکستان ہیں جن کی خدمات کو احاطہ تحریر میں لانا بہت مشکل ہے۔ محسن پاکستان ریاست بہاول پور کے دولھاسئیں1903ء میں 29اور30دسمبر کی درمیانی شب یعنی جمعہ المبارک 19رجب المرجب 1322ہجر ی کو ڈیرہ نواب میں پیدا ہوئے ۔ آپ کی پیدائش کی یاد گار کے طور پر آپ کے والد حاجی نواب بہاول خان عباسی نے منڈی صادق گنج کے نام سے جدید شہر کی بنیاد رکھی۔ جس کا سنگ بنیا د14نومبر 1904 میں رکھا گیا۔ 15مئی 1905ء کو آپ کی عمر جب ڈھائی سال کی تھی خاندانی رسوم کے مطابق آپ کی دستار بندی کی گئی۔ 12دسمبر1910ء کو آپ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ مولوی غلام حسین بہادر آپ کے اتالیق مقرر ہوئے۔ دسمبر1911ء صرف سات کی عمر میں آپ نے وردی پہن کر شاہی پروسیشن میں شریک ہو کر فوج کی خصوصی نشست میں اپنی فوک کی کمانڈ سنبھالی۔ 

 


نواب سر صادق محمد خان عباسی عباسیہ خاندان کے آخر فرما نروا تھے۔ امیر محمد خان اول کے سال حکمرانی 1727سے لیکر 1955ء تک 12عباسی نوابوں نے ریاست بہاول پور پر حکمرانی کی۔ نواب سر صادق کی شخصیت انتہائی شفیق جلال و جمال جذبات کا مرقع تھے۔ وہ ایک خدا ترس ، جہاندیدہ ، خوف خدا کے حامل اچھے حکمران کی خصوصیات و صفات سے مزین تھے۔ آج وہ اس دنیا میں نہیں بڑے بوڑھے انہیں یاد کر کے آنسوؤں کی برسات سے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ آج بھی اُن کے بنائے ہوئے اداروں سے اہلیان بہاول پور مستفید ہو رہے ہیں۔

 

 
نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی اہل علم لوگوں کے نہ صرف دلدداہ تھے بلکہ علم و ادب کی باقاعدہ سرپرستی فرمایا کرتے تھے۔ علمی ادبی لوگوں سے ادیبوں ، دانشوروں ، شاعرں اور علمائے کرام سے خطاب و کتاب بھی کیا کرتے تھے۔ انصاف کے معاملے میں لچک نہ دکھاتے جب تک کہ حق والے کو حق نہ مل جاتا چین سے نہ بیٹھتے ۔ اُردوں کے نامور قومی شاعر علام اقبال اور حفیظ جالندھری جیسی شخصیات نواب سر صادق محمد کے نہ صرف مدح تھے بلکہ نواب صاحب بھی انہیں نہایت توقیر و احترام سے نوازتے۔ ریاست بہاول پور کے 12ھکمرانوں کے دور حکمرانی پر نظر کی جائے تو نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کا دور حکومت ریاست کا نہایت سنہری دور تھا۔ اور یہ دور دیگر ریاستوں اور ملکوں کے جدید علوم سے ااستفادہ کا دور تھا۔ صرف بہاو پور شہر پر نظر دوڑائی جائے تو بہا ول پور میں حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے ادارے بہت کم نظر آئیں گے۔ اگر بہاول پور شہر سے نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کے اداروں کو ناک دیا جائے تو پھر شہر ہاول پور میں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ بہاول پور شہر میں جامعہ الازہر مصر کی طرز پر جامعہ اسلامیہ ، ستلج ویلی پراجیکٹ، ڈرنگ اسٹیڈیم، بہاول وکٹوریہ ہسپتال، ایس ای کالج، صادق ڈین ہائی سکول، ایس ڈی ہائی سکول، صادق عباس پبلک سکول، جامع مسجد، صادق گرلز ڈگری کالج کے علاوہ درجنوں ادارے اور عمارات نورمحل، دربار محل، نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کی ترقی پسندانہ ذہنیت کا بین ثبوت ہیں۔ 

 


نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی نے چولستان اور دیگر علاقوں کو سیرا کرنے کیلئے ہیڈ پنجند کے مقام پر ستلج عیلی پراجیکٹ مکمل کرایا۔ جس پر 14کروڑروپے خرچ ہوئے ۔ جس سے 15لاکھ ایکٹر اراضی سیراب کرنے کا اہتمام کیا گیا ۔ 1925ء میں احمد پو رشرقیہ میں صادق عباس مڈل سکول کو میٹرک تک کیا گیا۔ 31مارچ کو 1924ء میں ہیڈ پنجند کا سنگ بنیا د رکھا گیا۔ 1925ء میں ہیڈ پلہ ریگولیٹری کا بھی افتتاح کیا گیا۔ 1951ء میں بہاول پور اسملبی نے قانون شریعت نافذ کیا۔ ہندوستان کی یہ واحد ریاست ستھی جس نے مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا۔ پاکستان کے ساتھ ضم ہونے تک ریاست میں نظام اسلام کا نفاذ رہا۔ 
نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کے بانی پاکستان محمد علی جناح سے خصوصی مراسم رکھتے تھے۔ 1947میں جب ہندوستان میں قیام پاکستان کی تحریک روز پکڑگئی اور 14اگست کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ تو والی ریاست نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی نے پاکستان جیسی نوزائیدہ مملکت خدادا کو استحکام دینے کیلئے حکومت پاکستان کے ساتھ اپنی ریاست بہاول پور کا ادغام کیا۔ کیونکہ نواب صاحب درحقیقت اسلام اقدار کے علمبردار تھے اور پاکستان بھی دنیا کے نقشے پر لا الہٰ کے نعرے کی تحریک سے وجو د میں آیا ۔ تو نواب نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی نے سمجھا کہ اب یہ وقت آگیا ہے کہ اپنی ریاست پاکستان کے ساتھ ضم کر دے۔ اور باقاعدہ معاہدہ کر کے ریاست بہاول پور کو پاکستان کو ضم کردیا۔ قیام پاکستان کے بعد بھی نواب صاحب نے پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں اپنی خطیر رقم خرچ کر کے انہیں مالی استحکام بخشا ۔ کوئٹہ کا زلزلہ ہو یا لاہور کے تعلیمی ادارے نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کا ہر جگہ حکومت پاکستان کے اداروں کو مضبو ط کر نے کیلئے ان کا تعاون دامے درمے سخنے قدمے ہر طرح سے رہا۔ 
کوئٹہ کے زلزلہ میں نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ قیام پاکستان کے وقت جب دونوں طرف سے ہجرتوں کا سفر جاری تھا۔ تو پوری ریاست بہاول پور میں ہندو مسلم نفرت کا کہیں نام نشان نہ تھا۔ بلکہ ریاست سے ہجر ت کر کے جانے والوں کو ہر طرح سہولیات دی گئیں۔ اور ریاست بہاول پور سمیت دیگر خطوں میں آنے والے مہاجرین کی بحالی کیلئے دل و جان سے عملی اقدامات کیئے ۔ جس سے پاکستان کی نوزئیدہ ریاست کو سنبھلنے میں مدد ملی۔ یہی نہیں صرف ریاست بہاول پور میں چار لاکھ مہاجرین کی آباد کاری کی گئی اور بھائیوں جیسا پیار دیا گیا۔ مروت و مودت کی انتہائی مثالیں ریاست بہاول پور نے قائم کیں۔ 
نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی نے قائد اعظم محمد علی جنا کو مہاجرین فنڈز کیلئے 21لاکھ روپے عطیہ کیئے۔ دیگر معاشی مسائل پاکستان کیلئے نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کروڑوں روپے عنائیت کیئے۔ دفاع پاکستان اور سرحدوں کی حفاظت کیلئے ایک کروڑ روپے سالانہ کی خطیر رقم 1952تک ریاست بہاول پور کے بجٹ سے حکومت پاکستان کو ادا کی جاتی رہی۔ قائد اعظم نے اس موقع پر نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کی سخاوت و مروت کو دیکھتے ہوئے برملا کہا کہ
"ہمیں تو قلم کی سیاہی تک کیلئے ریاست بہاول پور کا ممنون احسان ہونا پڑا"
لیکن نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کی خودداری دیکھیں کہ انہوں نے پاکستان کا گورنر جنرل بننے سے انکار کردیا۔ اور کہاکہ مری خدمات پاکستان کیلئے جاری رہیں گی۔ بلکہ نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی نے دفاع پاکستان کیلئے 25ہزار پونڈ کا چیک دیا۔ اور ایک ڈویژن مسلح فوج پاکستان کی حفاظت کیلئے تعینات کرادی۔ 
محسن پاکستان نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی اپنی ریاست بہاول پور کو تو رقی دے رہی رہے تھے۔ لیکن نوزائیدہ پاکستان کے استحکام اور مہاجرین کی بحالی کیلئے نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ لیکن قائد اعظم بانی پاکستان کی وفات کے بعد حکومت پاکستان نے نہ صرف محسن پاکستان بلکہ ریاست بہاول پور کو یکسر بھلا دیا۔ 
آج حکومت کے ایٹمی کمیشن کے تحت بہاول پور میں چلنے والا ادارہ کینسر ہسپتال بینو مالی مسائل کا شکا ر ہے ۔ سید نسیم جعفری جیسی خدا ترس شخصیت اور چمبر آف کامرس کے مخیر حضرات اسے سہار ا دئیے ہوئے ہیں۔ ریڈیو پاکستان کی عمارت مخدوش ہو چکی ہے۔ نئی عمارت حکومت پاکستان دینے کو تیار نہیں۔ محمدعلی دورانی جیسے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ریڈیو پاکستان کو سن آف دی مسائل ہوتے ہوئے عمارت نہ دے بلکہ بحالی صوبہ کی تحریک کیلئے نکل پڑے جو کہ اُن کے بس کاکام ہی نہ تھا۔ جو مطلقاً ان کے بس میں وہ کام بھی نہ کیا۔ 
آج ریاست بہاول پور بے روزگاری کا شکار ہے ۔ چولستان کی زمینوں پر قبضہ مافیا چھا رہا ہے ۔ بندر بانٹ جاری ہے ۔ ریاست بہاول پور کے معاہدوں کے تحت ملازمتوں کے کوٹہ جات پر عمل درآمد کا دور دور تک نام نشان نہیں ہے ۔ وہ ریاست پاکستان کے نوائیدہ وجود کیلئے ریڑھ کی ہڈی بنا ۔ فیڈ ر بن کر پاکستان کو پالا آج اسی پاکستان کی حکومتیں اہلیان بہاول پور کی طرف التفاف کی نظر نہیں کر رہی ہیں۔ 
31مارچ 1990کو وحدت مغربی پاکستان کو توڑا گیا تو دیگر صوبوں کی طرح اسے بحال کرنے کی بجائے اسے گن پوائنٹ پر پنجاب میں ضم کر دیا گیا۔ اہلیان بہاول پور پوچھتے ہیں کہ ریاست بہاول پور کی دیکھ بھال حکومت پاکستان نے کرنی ہے یا حکومت پنجاب نے ۔ کیونکہ ریاست بہاول پور کا الحاق حکومت پاکستان سے ہوا نہ کر حکومت پنجاب سے ۔ لہٰذا حکومت پاکستان اہلیان بہاول پور کو بھی اسلام آباد اور دیگر صوبائی ہیڈ کواٹر جیسے شہروں جیسی سہولیات ہمہ قسم فراہم کر کے اور محسن کشی سے اقراز کرے۔ 
میری ارباب بست و کشاد سے یہ بھی گزارش ہے کہ نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کی برسی کے موقع پر نہ صرف ضلع بہاول پور میں بلکہ پوری ریاست بہاول پور میں تعطیل کا اعلان کرے۔ اس کیلئے نواب صاحب نے ضلع بہاول پور کا الحاق پاکستان سے نہیں کیا بلکہ بہاول پور ڈویژن کا الحاق پاکستان سے کیا تھا۔ اس لئے تعطیل بھی پورے ڈویژن میں کی جائے۔ اور نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی کو پرائمری سے لیکر یونیورسٹی تک نصاب میں شامل کیا جائے۔ اسلامیہ یونیورسٹی اور اسلام آباد اسلامی یونیورسٹی میں نواب سر صادق محمد خان خامس عباسی پر خصوصی چیئر قائم کریں۔