میرے پاس شریف خاندان کے خلاف کرپشن کے تمام ثبوت موجود , جے آئی ٹی مجھے طلب کرے تو کرپشن کی تمام فائلیں پیش کر سکتا ہوں: سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے انعام الرحمن سحری


Mian Fayyaz Ahmed Posted on June 17, 2017

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایف آئی اے کے سابق ڈپٹی  ڈائریکٹر اور 1993 میں شریف خاندان کے خلاف کرپشن کیسز کی تحقیقات کرنے والے انعام الرحمن سحری نے کہا ہے کہ میرے پاس شریف خاندان کی کرپشن کے تمام ثبوت موجود ہیں،  پانامہ جے آئی ٹی مجھے طلب کرے اور مجھے تحفظ  کی ضمانت دی جائے تو میں سارے ثبوت پیش کر سکتا ہوں،میری شریف فیملی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے ،موٹروے میں کرپشن کی گئی جس کے میرے پاس ثبوت اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی موجود ہیں ،اس وقت کی تحقیق میں جاوید کیانی کے ساتھ حسین نواز کو ملزم ٹھہرایا تھا ،1993 میں کی گئی تحقیقات میں پارک لین فلیٹس بھی تفتیش کا مرکزی نکتہ تھا ۔

 نجی ٹی وی چینل ’’سما نیوز ‘‘کے پروگرام ’’لائیو ود ندیم ملک ‘‘میں لندن  سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے اور بے نظیر بھٹو دور میں شریف خاندان کے خلاف کرپشن کیسز کی تحقیقات کرنے والے  انعام الرحمن سحری نے کہا کہ میں نے 1993 میں شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا ،سیکیورٹی دی جائے تو جے آئی ٹی میں پیش ہونے کیلئے تیارہوں۔ انہوں نے کہا کہ شریف فیملی پیسہ باہر کیسے لے کر گئی؟ اس کے بارے میں شریف برادران خود ہی بتا سکتے ہیں، اس کیس میں ایک کردار  جاوید کیانی تھا جس  نے حبیب بینک اے بی زیوریج اور  بینک آف امریکہ  میں بہت سارے فیک اکاؤنٹ  کھولے تھے،حدیبیہ انجئیرنگ کے لئے جن لوگوں کے نام پر جعلی اکاؤنٹ کھولے گئے ان میں سلمان ضیا ،محمد رمضان اور نزہت گوہر قاضی کے نام سامنے آئے ،حسین نواز نے اکاؤنٹ مینیج کرنے میں جاوید کیانی کا ساتھ دیا، ہم نے حسین نواز کے ساتھ جاوید کیانی کو ملزم ظاہر کیا تھا، میرے پا س بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات موجود ہیں جبکہ دسمبر 1995 میں اس کیس کے چالان پیش کئے تھے ،تمام فائلیں اور کاغذات مکمل کرتے ہوئے ساتھ لگائے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جاوید کیانی کے بیانات بھی ریکارٖڈ کئے تھے جبکہ اس نے بیان دیا تھا کہ میں یہ سب اوپر والوں کے حکم پر سب کرتا تھا ،اوپر تو نواز شریف اور شہباز شریف ہی تھے ۔انہوں نے کہا کہ  لاہور اسلا م آباد موٹر وے میں کرپشن کی گئی تھی ، موٹر وے اوریجنل پی سی ون ساڑھے  8 ارب کا تھا جو بعد میں 14 ارب کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت منی لانڈرنگ قانون نہیں تھا اس لئے تحقیقات میں یہ لفظ استعمال نہیں ہوا ،حدیبیہ انجئینرز  کی بنیاد پر جن شخصیات کے نام پر اکاؤنٹ کھول کر لاکھوں روپے کی ٹرانزیکشن کی گئی اور بینکوں میں ان کی رہائش کے جو ایڈریس لکھے گئے تھے ان گھروں کا کبھی ان شخصیات سے کوئی تعلق ہی نہیں رہا تھا ۔ انعام الرحمن سحری کا کہنا تھا کہ موٹروے کا ٹینڈر 16 ارب کا جاری کیا اور پھر بعد میں اسے ساڑھے 22 ارب روپے سے بھی بڑھا دیا تھا ،اس میں سلمان فاروقی اور اے جی این قاضی بھی شامل تھےجبکہ سلمان فاروقی کے بھائی نے اس وقت مجھے دھمکی بھی دی تھی۔انہوں نے کہا کہ 1993 میں اس وقت کی گئی تحقیقات میں  پارک لین میں شریف خاندان کی ملکیت فلیٹس کے بارے میں بھی انکوائری کی گئی تھی اور ہمیں ان فلیٹس کا اس وقت بھی علم تھا ،جے آئی ٹی چاہے تو اس وقت کی گئی تحقیقات کے مکمل کاغذات مل سکتے ہیں ،یہاں سے فائلز غائب ہوئی ہیں لیکن دنیا میں کئی جگہیں ایسی ہیں جہاں سے اس وقت کی تحقیقات کی مکمل فائلز حاصل کی جاسکتی ہیں ۔انعام الرحمن سحری کا کہنا تھا کہ1993 میں نیو جرسی میں ایک اور کمپنی چیوڈرن کے نام سے بھی کھولی گئی تھی  جس کے ذریعے التوفیق اور حدیبیہ پیپرز کے لئے پیسہ مینج کیا گیا ، یہ کمپنی تفتیش کے دوران ایکٹو تھی بعد میں یا  دوران تفتیش اسے بند کر دیا گیا ہو تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا ،جے آئی ٹی اس حوالے سے ان سے سوال کر سکتی ہے کہ اس کمپنی کے کاغذات اور ریکارڈ تو  لائیں نہ کیونکہ اسی کمپنی کے ذریعے پیسہ ادھر اُدھر کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ  موٹروے کرپشن کے بارے میں یہ جو تحقیقات کے مکمل کاغذات ہیں یہ شائد ایف اے ہیڈ کوارٹر میں بھی نہ ہوں ،میں کرپشن فری پاکستان کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں، جے آئی ٹی نے اگر بلایا تو کرپشن کی ساری داستان سپریم کورٹ کو بتاؤں گا اور ثبوت بھی پیش کروں گا، اپنے بیان سے ہٹوں گا نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں 70 سال کی عمر میں بونس میں جی رہا ہوں ،مجھے صرف جے آئی ٹی تک جانے کے لئے تحفظ کی ضمانت دی جائے واپسی کا اللہ مالک ہے اور پھر مجھے پتا ہے کہ مجھے کسی نے واپس بھی نہیں آنے دینا ،میں سب فیس کر لوں گا ،میں صرف اپنے ملک اور قوم کے کسی کام آنا چاہتا ہوں ۔