محسنِ پاکستان نواب سر صادق محمد خان خامس عباسیؒ


Faizul Hassan Posted on May 17, 2018

سرسید احمد خاں مرحوم کا قول ہے : ’’وہ قوم نہایت خوش قسمت ہے، جس کا ماضی یاد رکھنے کے قابل ہو اوروہ اسے یاد ہو جبکہ وہ قوم نہایت بدقسمت ہے، جس کا ماضی یاد رکھنے کے قابل ہو اور وہ اس کو یاد نہ ہو‘‘۔
ماضی سے رشتہ اُستوار رکھنے سے ہی انسان اپنے مستقبل کو تابناک بنا سکتا ہے اور اس کے لیے بہتر منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔
سابق ریاست بہاول پورکے وزیرِ داخلہ مولوی غلام حسین قریشی مرحوم (جو نواب بہاول پورکے اتالیق بھی تھے)کے ڈیرے پر موجود ایک شخص مخدوم فیروز نے ایک شام ازراہِ مذاق کہا ’’قریشی صاحب ! ایک وقت آئے گا،جب بہاول پور میں نہ حکومت رہے گی اور نہ حکمت‘‘۔ گردشِ ایام نے مخدوم فیروز کی بات کو سچ کر دیا۔ نہ ریاست رہی ، نہ وہ روایات رہیں، نہ رواداری رہی ، نہ پاسداری رہی اور نہ وہ دور اندیش حکمران اور دانشور۔ میر تقی میرؔ نے لکھنؤ میں ایک مشاعرے میں اپنے تعارف کی استدعا پر کچھ یوں جواب دیا:
؎کیا بودوباش پوچھو ہو پورب کے ساکنو!
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دِلی جو ایک شہر تھا عالَم میں انتخاب
رہتے تھے منتخَب ہی جہاں روزگار کے
اُس کو فلک نے لوٹ کر ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اُسی اُجڑے دیار کے
ایک اُجڑا دیار برصغیر پاک وہند کی دوسری بڑی اسلامی ریاست بہاول پور ہے۔ اس ریاست کی بنیاد ۱۷۲۷؁ء میں نواب صادق محمد خان عباسی اول نے رکھی اور تحصیل لیاقت پور کا قصبہ اللہ آباد ریاست کا پہلا دارالخلافہ قرار پایا۔ بانیان ریاست بہاول پور خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کے چچا محترم حضرت عباسؓ کی نسل سے ہیں،جن کی ایک عرصہ تک بغداد پر حکومت رہی۔ ۱۲۵۸؁ء میں ہلاکو خان کے ہاتھوں بغداد کی تباہی کے بعد عباسی شہزادوں نے سندھ کا رخ کیا۔ امیر چنی خان عباسی کو اکبراعظم کے بیٹے شہزادہ مراد سے پنج ہزاری کا منصب عطا ہوا اور اوباڑو سے لاہوری بندر تک کا علاقہ اجارہ پر دے دیا گیا۔ امیرچنی خان کی اولاد میں مہدی خان اور داؤد خان کے خاندانوں میں جھگڑا اُٹھ کھڑا ہوا۔ مہدی خان کی اولاد کلہوڑے کہلائے، جنہوں نے صدیوں تک سندھ پر حکومت کی اور مقامی قبائل نے ان کا ساتھ دیا، جبکہ عرب قبائل نے داؤد خان کی اولاد کا ساتھ دیا، جو ’’داؤد پوتا عباسی‘‘ کہلائے۔ ریاست بہاول پور کے بانی نواب صادق محمد خان اول عباسی امیر داؤد خان کی تیرھویں پشت سے تھے۔ عباسی داؤد پوتوں نے صادق آباد، خانپور، منچن آباد، شہر فرید، اوچشریف وغیرہ کے علاقے ریاست جیسلمیر، ریاست بیکانیر اور کلہوڑوں سے فتح کر کے موجودہ ریاست بہاول پور کی بنیاد رکھی۔ نواب صادق محمد خان اول عباسی نے ۱۷۳۹؁ء میں نادر شاہ درانی سے نواب کا خطاب حاصل کیا۔ اس طرح اس کی حکمرانی موجودہ ریاست بہاول پور کے علاوہ شکار پور، لاڑکانہ، سیوستان، چھتار وغیرہ کے علاقوں پر تسلیم کی گئی۔(جس کی یادگار بہاول پور شہر میں شکارپوری گیٹ ہے)۔
نواب صادق محمدخان اول عباسی کے بیٹے نواب بہاول خان عباسی اول نے ۱۷۴۸؁ء میں دریائے ستلج کے جنوب میں تین میل کے فاصلے پر ایک نئے شہر بہاول پور کی بنیاد رکھی اور ریاست کے وسط میں ہونے کی بنا پر اسے ریاست کا دارالخلافہ قرار دیا گیا۔ نواب بہاول خاں ثانی کے عہد میںاس ریاست کو ’’دارالسرور بہاول پور‘‘ کا سرکاری نام دیا گیااور اسی نام کا سکہ اور مہریں استعمال ہوتی تھیں۔
ریاست بہاول پور کے بارہ نوابوں میں سے نواب بہاول خاں ثالث بالخیر ، نواب فتح خاں، نواب صادق محمد خاں چہارم (صبح صادق) اور آخری نواب اعلیٰ حضرت محسنِ پاکستان الحاج جنرل سر صادق محمد خان خامس عباسی کے ادوار کو ترقی وخوشحالی اور بہترین نظامِ حکومت کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہے۔
نواب سر صادق محمد خاں خامس عباسی ۳۰ ستمبر ۱۹۰۴؁ء بروز جمعۃالمبارک دولتِ خانہ عالیہ بہاول پور کی عمارت میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والد نواب حاجی محمد بہاول خان خامس عباسی کے اکلوتے فرزند تھے۔ ۲ سال کی عمر میں والد کے ساتھ سفرِ حج کیا، جس سے واپسی پر دورانِ سفر نواب بہاول خان کا انتقال ہو گیا۔ ۱۵ مئی ۱۹۰۷؁ء کو سر صادق کو ریاست کا حکمران Declare کیا گیا، مگر ریاست کے انتظام اور نواب صاحب کی تعلیم و تربیت کے لیے حکومتِ برطانیہ نے آئی سی ایس آفیسر سر رحیم بخش کی سربراہی میں کونسل آف ریجنسی قائم کی۔ نواب صاحب نے ابتدائی عربی، فارسی اور مذہبی تعلیم اپنے اتالیق نامور علمی شخصیت علامہ مولوی غلام حسین قریشی سے حاصل کی۔(جوبعد میں عرصہ دراز تک ریاست کے ہوم منسٹر رہے)۔ سر صادق کی شخصیت سازی میںمولوی غلام حسین قریشی کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ ۳ سال کی عمر میں تخت نشین ہونے والے شہزادے کی شخصیت کو نکھارنے کے لیے ان کی مذہبی، تعلیمی، فوجی اور انتظامی ہر لحاظ سے اعلیٰ ترین تربیت کی گئی۔یہی وجہ ہے کہ ۱۹۱۱؁ء میں ہونے والے دہلی دربار میںصرف سات سال کی عمر میںاپنی فوج کی کمان کرتے ہوئے شہنشاہ برطانیہ جارج پنجم کے سامنے پیش ہوئے۔ ۱۹۱۳؁ء میں تعلیم اور امورِ ریاست کی تربیت کے لیے لندن بھیجا گیا۔ ۱۹۱۵؁ء سے ۱۹۲۱؁ء تک ایچی سن کالج لاہور میں زیرِ تعلیم رہے۔ ۱۹۲۱؁ء میں ہِز رائل ہائینس پرنس آف ویلز کے ایڈی کانگ مقرر ہوئے۔ مارچ ۱۹۲۴؁ء کو لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند نے بہاول پور آ کر نورمحل میں منعقدہ تقریب میں نواب سر صادق کی رسمِ تاجپوشی ادا کی اور مکمل اختیارات تفویض کیے۔اور اسی موقع پر’’ صادق ریڈنگ لائبریری‘‘ کی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا جو اب سنٹرل لائبریری کے نام سے موسوم ہے اور پنجاب کی دوسری بڑی لائبریری ہے، جس میں نادر ونایاب مخطوطات ، قدیم و جدید اخبارات و رسائل اور لاکھوں کی تعداد میں کتب موجود ہیں۔اس لائبریری میں ایک لاری کا بھی انتظام کیا گیا۔ وہ خواتین جو پردے کی پابندی کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں جاتی تھیں۔ ان کے لیے اس لاری میں سفری لائبریری کا انتظام کیا گیا اور خواتین کلرک گھروں میں جا کر کتابیں جاری کرتیں اور واپس لاتیں۔ اس کے علاوہ صادق گڑھ پیلس اور صادق ایجرٹن کالج (ایس ای کالج) کی لائبریریاں بھی نادر و نایاب کتب کے حوالے سے مشہور ہیں۔ سر صادق دنیا بھر سے جو کتب منگواتے، اس کے تین نسخے منگواتے۔ ایک صادق ریڈنگ لائبریری (سنٹرل لائبریری )، دوسرا صادق گڑھ پیلس لائبریری اور تیسرا صادق ایجرٹن کالج کی لائبریری کے لیے۔سر صادق محمد خان مرحوم کی تعلیمی اور دینی خدمات اور عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی فہرست بہت طویل ہے جس کے لیے چندصفحوں نہیں بلکہ کئی کتابوں کی ضرورت ہے:
تعلیم اور رفاہِ عامہ کے لیے کیے جانے والے اقدامات:
ریاست بہاول پور میں ہمیشہ علم و ادب کی سرپرستی کی گئی۔ نواب صاحب مرحوم اور ان کے پیشروؤں نے ہمیشہ تعلیم کی ترویج کے لیے اقدامات کیے۔ ابھی سرسید کی علمی تحریک اپنے آغاز میں ہی تھی کہ اس وقت نواب سر صادق کے دادا نواب صادق محمد چہارم (المعروف صبح صادق) نے ۱۸۸۶؁ء میں’’ صادق ایجرٹن کالج‘‘ کا افتتاح کیا، جہاں ۱۸۹۲؁ء میں ڈگری کلاسز کا اجراء کیا گیا۔ برصغیر کے ممتاز ماہرینِ تعلیم کا تقرر ایس ای کالج میں کیا گیا۔ جن میں بابو پرسنا کمار بوس بطور پہلے پرنسپل، پروفیسر لالہ رام رتن، پروفیسر مرزا اشرف گورگانی، مولوی محمد دین، پروفیسر وحید الدین سلیمؔ پانی پتی نمایاں نام ہیں۔۱۸۶۷؁ء میں صادق الانوار پرنٹنگ پریس کا قیام عمل میں لایا گیا اور اس وقت کے لحاظ سے جدید مشینری منگوائی گئی۔ اس پریس میں ۶۰۰ سے زائد ملازم تھے اور تین تین شفٹیں چلا کرتی تھیں۔ ۱۹۷۰؁ ء میں بہاول پور کو زبردستی پنجاب میں ضم کرنے کے بعد اسے لاہور گورنمنٹ پریس کے ماتحت کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ جب ۱۸۷۸؁ء میں ریل کی پٹڑی بچھائی جانے لگی تو دریائے ستلج سے لے کر صادق آباد تک تقریباً ۳۰۰ کلومیٹر ریل کے لیے ریاست نے مفت زمین فراہم کی اور کوئی معاوضہ نہیں لیا۔
نواب سر صادق نے اقتدار سنبھالتے ہی ۱۹۲۵؁ء میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دینی تعلیم کے لیے مدرسہ صدر دینیات کو ترقی دے کر جامعۃ الازہر کی طرز پر جامعہ عباسیہ قائم کیا۔ یہ پورے برصغیر میں اپنی نوعیت کا واحد ادارہ تھا، جہاں تمام مکاتبِ فکر کے علماء و اساتذہ تعلیم دیتے تھے اور اس سے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے طلبہ فیض حاصل کرتے تھے۔ جامعہ عباسیہ میں دینی و مشرقی علوم کے ساتھ ساتھ ریاضی، انگریزی اور سائنس کی لازمی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ طب یونانی کی تعلیم کے لیے ۱۹۲۶؁ء میں جامعہ عباسیہ کا ذیلی ادارہ طبیہ کالج بھی قائم کیا گیا،جو اس وقت پنجاب کا واحد سرکاری طبیہ کالج ہے۔ ریاست کے طول وعرض میں قائم تمام دینی مدارس کے لیے اسے Examining Authority کا درجہ بھی حاصل تھا اور جامعہ کو ہی سند جاری کرنے کا اختیار تھااور صرف جامعہ کے دارالافتاء کو ہی فتویٰ جاری کرنے کا اختیار تھا اور وہی عدالتوں میں قابل قبول تھا۔نامور عالم دین علامہ غلام محمد گھوٹویؒ کو پہلا شیخ الجامعہ مقرر کیا گیا۔ریاست کے طول و عرض میں موجود تمام مکاتبِ فکر کے مدارس میں صرف جامعہ عباسیہ کا منظور شدہ نصاب پڑھانے کی اجازت تھی ۔ (تاکہ فرقہ واریت کو روکا جا سکے)۔ مختلف ادوار میں مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ، حضرت غلام محمد گھوٹویؒ(شیخ الجامعہ)،مولانا احمد علی بلوچ ؒ، مولانا فاروق احمدؒ، مولانا صادق محمدؒ، مولانا عبید اللہ ؒ ، قاضی منظور احمدؒ ، مفتی محمد امینؒ، مولانا محمد امیرؒ، مولانا ناظم ندویؒ، مولانامحمد ادریس کاندھلویؒ ،علامہ شمس الحق افغانی ؒ اور علامہ سید احمد سعید کاظمیؒ جیسی نابغۂ روزگارشخصیات برصغیر کی عظیم دینی درسگاہ جامعہ عباسیہ سے وابستہ رہیں اور اس ادارے نے ہزاروں ایسے علماء پیدا کیے جو اپنی مثال آپ تھے۔یہ ادارہ ترقی کرتے ہوئے آج ’’دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاول پور‘‘ کے نام سے پاکستان کا نامور ادارہ ہے، جہاں ۴۵ سے زائد شعبوں میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح تک تعلیم دی جا رہی ہے۔
تعلیم نسواں کے لیے صادق گرلز سکول اوران کی اعلیٰ تعلیم کے لیے صادق گرلز کالج قائم کیے گئے اور طالبات کو لانے اور واپس پہنچانے کے لیے بس کا انتظام بھی کیا گیا۔ صادق گرلز کالج ترقی کرکے اب خواتین یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کر چکاہے۔فنی تعلیم کے لیے صادق کمرشل انسٹی ٹیوٹ قائم ہوا، جو اَب صادق کامرس کالج کے نام سے پوسٹ گریجوایٹ تک طلبہ کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کررہا ہے۔
نواب سر صادق نے ریاست بھر میں طلبہ و طالبات کے لیے تعلیمی اداروں کا جال بچھا دیا،جہاں سب کے لیے تعلیم مفت تھی اورہونہار طالب علموں کو وظائف بھی دیے جاتے تھے۔اساتذہ کی تربیت کے لیے بہاول پور، خان پور اور چشتیاں میں نارمل سکول قائم کیے گئے جو بعد میں ترقی کر کے ایلیمنٹری کالجز میں تبدیل ہو گئے۔
ریاست کے طلبہ کی اعلیٰ اور پروفیشنل تعلیم کے لیے برصغیر کے تمام اہم اداروں میں سیٹیںمقرر کی گئیں اور یہ طلبہ ریاست کے خرچہ پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے تھے۔لاہور اور کراچی میں نواب مرحوم نے بہاول پور ہاؤسز میں ہاسٹل تعمیر کیے، جہاں ریاست کے ان طلبہ کے لیے رہائش اور خوراک کا مفت انتظام تھا۔
قیام پاکستان کے بعد نواب سر صادق مرحوم کا سب سے بڑا کارنامہ ایچی سن کالج کی طرز پر1954؁ء میں صادق پبلک سکول جیسے اعلیٰ معیاری ادارے کا قیام ہے۔ اس ادارے کے لیے نواب صاحب مرحوم نے اپنی 450 ایکڑ ذاتی زمین کے علاوہ تعمیروترقی کے لیے فنڈزفراہم کیے اور ایچی سن کالج کے معروف استاد اور ماہرِ تعلیم خان انور سکندر خان کو اس ادارے کا پہلا پرنسپل مقرر کیا۔آج یہ ادارہ پاکستان کا بہترین ادارہ شمار کیا جاتا ہے۔یہ پورے ملک میں اپنی نو عیت کا واحد ادارہ ہے، جہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت اور کردار سازی پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔ یہ ادارہ 18مربع اراضی پر محیط پاکستان کا بڑا اقامتی ادارہ ہے۔ جہاں K0 سے میٹرک، او لیول، اے لیول اور انٹرمیڈیٹ تک پاکستان کے تمام علاقوں سے آئے ہوئے 2500سے زائدطلبا و طالبات اعلیٰ تعلیمی ماحول میںزیورِ تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔صادق پبلک سکول اپنی نصابی، ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کی بنا پر پورے ملک میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اس ادارے کے فارغ التحصیل اعلیٰ سول و فوجی آفیسرز، ڈاکٹرز، انجینئرز، سیاستدان غرض ہر شعبہ زندگی میں وطنِ عزیز کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔
۱۹۲۸؁ء ستلج ویلی پراجیکٹ کا افتتاح کیا،جس کے تحت دریائے ستلج پر تین ہیڈ ورکس سلیمانکی، ہیڈ اسلام اور ہیڈ پنجند تعمیر کیے گئے اور پوری ریاست میں نہروں کا جال بچھا دیا گیا اور غیر آباد زمینوں کی آباد کاری کے لیے مختلف علاقوں سے آبادکاروں کو ریاست میں آباد ہونے کی ترغیب دی گئی۔ نئی منڈیاں اور شہر ہارون آباد، فورٹ عباس، حاصل پور، چشتیاں،یزمان، لیاقت پور اور صادق آباد بسائے گئے۔
یہیں سے نواب سر صادق اور قائد اعظم محمد علی جناح کے درمیان لازوال دوستی کا رشتہ قائم ہوا۔ریاست کے اس وقت کے وزیراعظم سر سکندر حیات (یوننسٹ رہنما) نے ریاست کے خلاف درپردہ سازش کا آغاز کیا اور ستلج ویلی پراجیکٹ کے بقایا جات کے حوالے سے مرکزی حکومت کو لکھا کہ ریاست قرضہ کی ادائیگی نہیں کر سکتی۔ لہٰذا صادق آباد اور کوٹ سبزل کے علاقہ جات ریاست سے لے لیے جائیں۔ریاست کے اس وقت کے ہوم منسٹر اور نواب مرحوم کے اتالیق مولوی غلام حسین قریشی ؒنے اس سازش کو بے نقاب کیا اور نواب مرحوم کو اپنے قانونی مشیر سے مشورہ لینے کا کہا۔اس مقدمہ کی پیروی اس وقت کے ریاست کے قانونی مشیر قائد اعظم محمد علی جناح نے کی اور مقدمہ کا فیصلہ بہاول پور کے حق میں ہوا ۔ اور درپردہ سازش بھی بے نقاب ہوئی اور قائد اعظم کے مشورے پر نواب صاحب نے اس سازش کے سرغنہ سر سکندر حیات کو نہ صرف عہدے سے برطرف کر دیا بلکہ فوراً ریاست بدر کر دیا گیا۔
۱۹۳۰؁ء میں سرصادق نے ریاست کپور تھلہ میں جامع مسجد تعمیر کرائی اور مہاراجہ کپور تھلہ کی فرمائش پر خود اس کا افتتاح کیا۔ ۳ دسمبر ۱۹۳۰؁ء کو سر راس مسعود (وائس چانسلر) کی دعوت پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے سالانہ کانووکیشن کی صدارت کی اور اس وقت ایک لاکھ روپے کی خطیر رقم بطور عطیہ دی۔ ۲۷ دسمبر ۱۹۳۰؁ء کو انجمن حمایت اسلام لاہورکے سالانہ جلسہ کی صدارت کی اور گرانقدر مالی امداد کی۔ اپریل ۱۹۳۱؁ء میں طبیہ کالج دہلی کے کانووکیشن کی صدارت کی اور گرانقدر مالی امداد کا اعلان کیا۔
اس کے علاوہ برصغیر کے طول و عرض میں نواب صاحب کی طرف سے کیے جانے والے تعلیمی اور رفاحی اقدامات بے شمار ہیں، جن میں سے چند کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ ۱۹۰۸؁ء میں ندوۃالعلماء لکھنؤ کے لیے نواب صاحب کی والدہ محترمہ کی طرف سے دی جانے والی پچاس ہزار50,000/-) روپے)کی مالی امداد کے جواب میںعلامہ شبلی نعمانی ؒنے شکریہ کا خط تحریر کیا جو محافظ خانہ (محکمہ دستاویزات) بہاو ل پور میں محفوظ ہے۔ پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کا سینٹ ہال (جہاں اس وقت یونیورسٹی کالج آف انفارمیشن ٹیکنالوجی قائم ہے) سرصادق نے تعمیر کرایا اور اس عمارت کی پیشانی پر آج بھی نواب صاحب کے نام کی تختی موجود ہے۔ کنگ ایڈورڈمیڈیکل کالج کابہاول پور بلاک نواب صاحب کی یادگار ہے۔ ایچیسن کالج کا بورڈنگ ہاؤس (بہاول پور ہاؤس) نواب سر صادق کی یادگار ہیں۔ جن تعلیمی اداروں اور رفاحی اداروں کی مستقل سرپرستی اور مالی معاونت فرماتے رہے، ان میں انجمن حمایت اسلام لاہور، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، ندوۃ العلماء لکھنؤ، دارالعلوم دیوبند، مظاہر العلوم سہارنپور، جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، انجینئرنگ کالج لاہور اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، انجینئرنگ کالج لاہور، ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی، دائو انجینئرنگ کالج کراچی وغیرہ میں بہاول پور سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کے لیے علیحدہ نشستیں مختص تھیں ۔ ریاست کی طرف سے لاہور کے بہاول پور ہائوس اور کراچی کے الشمس میں طالب علموں کے لیے رہائش کا انتظام تھا اور ان کو وظائف بھی دیے جاتے تھے۔
۲۷ فروری ۱۹۳۴؁ء کو نواب صاحب کی تعلیمی خدمات کے اعتراف کے طور پر رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر وُلز نے بہاول پور تشریف لا کر صادق گڑھ پیلس میں منعقدہ تقریب میں نواب صاحب کو ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری مرحمت فرمائی۔
۱۹۳۵؁ء میں ہی کوئٹہ کے زلزلہ زدگان کے لیے امدادی ٹرین روانہ کی۔
اسی سال فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے تقریباً ۱۰۰ افراد کو اپنے ساتھ لے گئے۔ سامان کے لیے جو فوجی گاڑیاں اور موٹریں بحری جہاز پر ساتھ لے گئے، سب سعودی حکومت کو بطور تحفہ دے دیں۔ مسجد نبویؐ میں قیمتی فانوس لگوائے۔
اسی سال جولائی میں جامع مسجد دہلی کی طرز پر سفید براق سی ’’جامع مسجد الصادق‘‘ کی ازسرِ نو تعمیر کا سنگِ بنیاد رکھا، جو اس وقت پاکستان کی چوتھی بڑی مسجد ہے۔ جامع مسجد کے اخراجات کے لیے کثیر زرعی رقبہ وقف کیا۔ اس کی تعمیر میں سنگِ سرخ اور سنگِ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے۔ جمعۃ المبارک کا سب سے بڑا اجتماع جامع مسجد الصادق میں منعقد ہوتا اور بلا تخصیص مسلک سب لوگ جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت شیخ الجامعہ مولانا غلام محمد گھوٹویؒ تمام عمر جمعہ کی نماز جامع مسجد اور عیدین کی نماز مرکزی عید گاہ میں (باوجود مسلکی فرق کے) آخری شاہی خطیب حضرت مولانا قاضی عظیم الدین علویؒ کی امامت میں ادا کرتے رہے۔ اسی سال شہر سے باہر عید گاہ کی تعمیر کرائی۔
ماہرینِ علم وفن ، ادبا، شعراء اور علماء کی ہمیشہ قدردانی کی جاتی رہی۔ چنانچہ قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒاور علامہ محمد اقبال ؒبہاول پور کے قانونی مشیر رہے۔ سرشیخ عبدالقادر (مدیرِ مخزن) ۱۹۴۲؁ء سے ۱۹۴۶؁ء تک بغداد الجدید ہائی کورٹ بہاول پورکے چیف جسٹس رہے۔ابوالاثرحفیظؔ جالندھری بطور درباری شاعربہاول پور میں ملازم رہے۔
۱۹۴۳؁ء میں نواب سر صادق کی سرپرستی اور سر عبد القادر کی صدارت میں صادق ایجرٹن کالج (ایس ای کالج) میں آل انڈیا مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا، جس کی تین نشستیں منعقد ہوئیں اور برصغیر کے طول و عرض سے نامور شعراء کرام تشریف لائے۔نواب سر صادق کے فرمان کے مطابق دبیر الملک الحاج عزیز الرحمٰن عزیزؔ نے پہلی بار سرائیکی کے قادر الکلام صوفی شاعر حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا کلام ’’دیوانِ فرید‘‘ ترجمہ اور تشریح کے ساتھ ۱۹۴۲؁ء میں عزیز المطابع پریس سے شائع کیا۔ ریاست کے طول و عرض میں موجود بزرگانِ دین اور اولیاء اللہ کے مزارات کی تعمیر اور مرمت کی گئی۔
۱۹۵۰؁ء میں صادق ایجرٹن کالج میں عالمی سائنس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں دنیا بھر سے سائنسدانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سائنسی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔۱۹۵۲؁ء میں پیرا میڈیکل سکول، نرسنگ سکول اور ایل ایس ایم ایف کلاسز کا اجراء کیا گیا۔ ۱۹۵۲؁ء میں علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کی سربراہی میں ریاست میں تعلیمی اصلاحات اور نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے کمیشن قائم کیا گیا۔
بہاولپور میں حج کے موقعہ پر تین ماہ کی چھٹی مع ایڈوانس تنخواہ دی جاتی تھی۔ بہاول پور حکومت کی طرف سے مکہ اور مدینہ میںسرائے موجود تھیں، جہاں بہاولپور کے حجاج کے لیے مفت رہائش اور خوراک کا انتظام ہوتا تھا۔ آخری عشرہ رمضان میں تمام مساجد میں حکومت کی طرف سے مرمت اور سفیدی کی جاتی تھی۔ اسی طرح ہندوؤں اور سکھوں کو بھی اپنے مذہبی تہواروں پر مسلمانوںکے مساوی حقوق حاصل تھے۔ دورانِ تعلیم وفات پا جانے والے ملازمین کی بیوائوں اورنابالغ بچوںکے لیے پنشن مقرر کی جاتی تھی۔بہاول پور اور ڈیرہ نواب صاحب میں یتیم خانے قائم کیے۔ جہاں مفت رہائش ، خوراک کے علاوہ ذہین طلبہ کے لیے وظائف کا انتظام موجود تھا۔ا ردو اور سرائیکی کے معروف شاعر اور مصنف پروفیسر عطا محمد دلشاد کلانچوی مرحوم ، ٹیکنیکل ہائی سکول کے سابق پرنسپل عبدالقادر جوہرؔ اور کئی مشاہیر نے یتیم خانہ میں پرورش پائی۔
بہاول پور میں مہاجرین کی آباد کاری کے لیے نئی وزارت قائم کی گئی، جس کے ذریعے مہاجرین کو ریاست بہاول پور میں باعزت طریقہ سے آباد کیا گیا۔الغرض ریاست بہاول پور صحیح معنوں میں ’’دار السرور‘‘ تھی۔
صحت:
امیرانِ بہاول پور خاص طور پر نواب سر صادق نے صحتِ عامہ کے حوالے سے قا بلِ قدر خدمات سرانجام دیں۔بہاول پور میں 1867؁ء میں باقاعدہ محکمہ صحت کی بنیاد رکھی گئی اور ایک انگریز ڈاکٹر Mr. Deane کو انچارج مقرر کیا گیا ،جس کی نگرانی میں پوری ریاست میںڈسپنسریاں قائم کی گئیں اور ریاست میں پھیلنے والی وباوؤںچیچک، طاعون ، Scurvy وغیرہ کی روک تھام کے لیے Vaccination کا انتظام کیا گیا۔
بہاول پور میں Scurvyکی وبا عام تھی، جس کا سبب زیرِ زمین پانی میں سلفر اور آرسینک کی زیادتی تھی۔ سر صادق نے اس کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات کیے۔ میٹھے پانی کے کنویں کھدوائے گئے۔ ستلج ویلی پراجیکٹ کے زیرِ اہتمام نہروں کے جال بچھ جانے کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی خرابی دور ہو گئی۔ ستلج کے خشک ہو جانے کی وجہ سے دوبارہ بہاول پور میں وہی صورتِ حال ہے۔
نواب صادق محمد خاں چہارم کے عہد تک چوک بازار میںایک مرکزی اقامتی ہسپتال موجود تھا۔ ملکۂ وکٹوریہ کی وفات پر یادگار کے طور پر 1906 ؁ء میں بہاول وکٹوریہ ہسپتال قائم کیا گیا، جس کے لیے برٹش گورنمنٹ نے بھی مالی امداد فراہم کی۔ڈاکٹر رام دیال اس ہسپتال کے پہلے انچارج مقرر ہوئے۔ڈاکٹر عمربخش، ڈاکٹر دیوان علی ، ڈاکٹر یعقوب بیگ اور ڈاکٹر محمد دین وغیرہ کے نام آج بھی زبانِ زدِ عام ہیں۔
ملکۂ وکٹوریہ کے دورِ اقتدار کی گولڈن جوبلی کی یادگار کے طور پر 1892؁ء میں اندرونِ شہرجوبلی زنانہ ہسپتال قائم کیا گیا۔جہاں خواتین اور بچوں کا مفت علاج معالجہ ہوتا تھا اوروارڈ اور آپریشن کی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔یہ ہسپتال اب بھی موجود ہے۔ بہاول نگر اور احمدپور شرقیہ میں بھی خواتین کے علاج معالجے کے لیے زنانہ ہسپتال قائم کیے گئے۔
1930؁ء میںبہاول وکٹوریہ ہسپتال میں توسیع کی گئی۔ نیا ٹی بی وارڈ، نیا آپریشن تھیٹر اور بستروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ 1938؁ء میں سرجن ڈاکٹر جمیل الرحمٰن (موجودہ وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم و داخلہ میاں بلیغ الرحمان کے دادا )کی سربراہی میں ایکسرے کا شعبہ قائم کیا گیا۔پوری ریاست میں ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا جال بچھا دیا گیا،جہاں علاج کی مفت سہولیات کے علاوہ مریضوں کو خوراک بھی مہیا کی جاتی تھی۔ صادق گڑھ پیلس میںکیمپ ہسپتال اور سٹاف ڈسپنسری کے علاوہ فوج کی ضروریات کے لیے 1911؁ء میں بہاول پور میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال اور ڈیرہ نواب صاحب میں کیولری ہسپتال قائم کیے گئے۔جیلوں میں قیدیوں کے علاج معالجے کے لیے ڈسپنسریاں اور میونسپل کمیٹیوں کے زیرِ انتظام شہروں میں سٹی ڈسپنسریاں قائم کی گئیں۔
ڈاکٹرز، نرسوں، ڈسپنسرز اور حکیموں کو ملک کے دوسرے علاقوں کی نسبت زیادہ تنخواہیں اور مراعات دی جاتی تھیں۔ 1953-54؁ء میںبہاول وکٹوریہ ہسپتال میں بڑے پیمانے پر توسیع کی گئی ۔ای این ٹی، آئی وغیرہ کے لیے علیحدہ شعبے قائم کیے گئے۔ نرسنگ سکول اور پیرا میڈیکل سکول قائم کیے گئے۔طب یونانی کی ترویج کے لیے ریاست کے شہروں میں شفاخا نے اور بہاول پور میں ایک طبیہ کالج قائم کیا گیا۔ مشہور کالم نگار بشریٰ رحمٰن کے والد حکیم عبدالرشید کو اس کا پرنسپل مقرر کیا گیا۔یہ طبیہ کالج اس وقت پنجاب کا واحد سرکاری طبیہ کالج ہے۔
بڑےشہروں میںصفائی کے لیے میونسپل کمیٹیوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا۔ چھڑکاؤ اورسپرے کے انتظام کے ساتھ ساتھ موذی جانوروں کو تلف کرنے کا بھی انتظام کیا گیا۔
سر صادق کے دور میں شہر کے تمام تعلیمی اداروںمیں طلبہ کا مفت معائنہ کیا جاتا۔ حکومت کی طرف سے ہر چھ ماہ بعد طلبہ کے دانتوںکے مفت معائنے کے لیے ڈینٹل سرجن ڈاکٹر گِرداری لال کو مقرر کیا گیا۔
روایات کی پاسداری:
اسلامی روایات کی علمبردار ریاست بہاول پور میں ننگے سر پھرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ہندو مسلم سب کے لیے لازم تھا کہ وہ بغیر سر ڈھانپے گھر سے باہر نہ نکلیں۔ ترکی ٹوپی درباری لباس (یونیفارم) کا اہم حصہ تھی۔ سرخ یا کلیجی رنگ کی بانات کی ترکی ٹوپی پہننے کا رواج عام تھا۔ فوجی وردی کے ساتھ خاکی رنگ کی ترکی ٹوپی استعمال کی جاتی تھی، جس پر ریاست کا پیلیکن والاسرکاری مونو گرام ہوتا تھا۔ نواب صاحب ، شہزادگان اور شاہی خاندان کے افراد بعض اوقات سفید ترکی ٹوپی کا استعمال بھی کرتے تھے۔نواب صاحب کی فوج کے گھڑ سوار جاں نثار محافظ دستہ کے سپاہی سیاہ رنگ کی ترکی ٹوپی پہنتے تھے۔ روایات کی پابندی کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ پرائم منسٹر کرافٹن اور پرائم منسٹر کرنل ڈرنگ بھی نواب صاحب کے سامنے پیش ہوتے وقت اور دربار میں ترکی ٹوپی پہنتے تھے۔ کرافٹن کی کار میںترکی ٹوپی کا ڈبہ ہر وقت موجود ہوتا تھا۔ وہ جیسے ہی صادق گڑھ پیلس میں داخل ہوتا، فیلٹ ہیٹ اتار کر ترکی ٹوپی پہن لیتا۔
تاریخی فیصلہ:
یہ اعزاز بھی بہاول پور کو حاصل ہے کہ ۷فروری ۱۹۳۵؁ء کو دنیا میں پہلی بار بہاول پورکے ڈسٹرکٹ جج جسٹس محمد اکبر خاں مرحوم (جو بعد میں ترقی پا کر چیف جسٹس بہاول پور ہائی کورٹ کے عہدے تک پہنچے) نے تنسیخِ نکاح کے ایک مقدمے میں مرزائیوں اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔ اس تاریخی مقدمے کے سلسلے میں برصغیر کے نامور علماء نے بہاول پور آ کر عدالت میں اپنے بیانات دیے۔ اس حوالے سے پیش آنے والے اس واقعہ سے نواب صاحب کی دینداری اور عشقِ رسولﷺ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
جس روز جج محمد اکبر خان مرحوم نے اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ سنانا تھا، آدھی رات کو جج صاحب کے دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر دیکھا گیا تو نواب صاحب بنفسِ نفیس موجود تھے ، جج صاحب سے مخاطب ہو کر کہنے لگے : ’’جج صاحب! سویرے خیال کرائے، قیامت آلے ڈینھ نبی سائیں صلی اللہ علیہ والہ وسلم کنوں میڈے منہ تے دانگی نہ پھروائے‘‘۔
ترجمہ: جج صاحب! صبح فیصلہ کرتے ہوئے خیال کرنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت والے دن نبی محترم حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم مجھ سے ناراض ہوجائیں۔ (مٹی کے توے کوسرائیکی کلچر میں دانگی کہا جاتا ہے)
تعمیروتشکیل پاکستان میں سر صادق کا کردار:
تقسیم برصغیر کے وقت انڈین نیشنل کانگریس اور جواہر لال نہرو کی طرف سے نواب سر صادق کو بے شمارآفرز کی گئیں کہ وہ اپنی ریاست کا الحاق ہندوستان سے کر دیں مگر نواب صاحب اس موقع پر یہ تاریخی جملہ کہا
’’میرا سامنے کا دروازہ پاکستان میں اور پچھلا دروازہ ہندوستان میں کھلتا ہے اور ہر شریف آدمی اپنے سامنے کے دروازے سے آمدورفت زیادہ پسند کرتا ہے‘‘۔
اس طرح ۱۹۴۷؁ء میں قیام پاکستان کے وقت سب سے پہلے نواب سر صادق نے اپنی ریاست بہاول پور کا پاکستان سے الحاق کیا ۔ ریاست کے وزیر اعظم نواب مشتاق احمد گورمانی نے پاکستان کے قیام کے تین دن بعد عید الفطر کے موقع پر عید گاہ میں اس الحاق کا اعلان کیا۔
اس موقع پر سر صادق نے اپنی فوج پاکستان آرمی میں ضم کر دی ۔ قائداعظم بطور گورنرجنرل حلف اٹھانے کے لیے نواب صاحب کی ذاتی رولز رائس کار میں جائے تقریب پر تشریف لے گئے۔ریاست کی فوج نے سب سے پہلے قائد اعظم کو قیام پاکستان سے تین دن قبل ۱۱ ۔اگست ۱۹۴۷؁ء کو بہاول پور کی فرسٹ انفنٹری بٹالین نے گارڈ آف آنر اور رائل سیلوٹ پیش کیا۔حکومت پاکستان کو پاکستان بننے کے بعد خزانہ خالی ہونے پر نواب سر صادق محمد خان عباسی نے ابتدائی طور پر پاکستان کے سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کے لیے ۷ کروڑروپے اور بعد ازاں ۲ کروڑ روپے ، پھر ۲۲ ہزار ٹن گندم اور مہاجرین کے لیے ۵ لاکھ روپے دیے۔ بہاول پور میں مہاجرین کی آبادکاری کے لیے نئی وزارت بحالیٔ مہاجرین بنائی گئی، جس کے ذریعے مہاجرین کو ریاست بہاول پور میں باعزت طریقہ سے آباد کیا گیا۔ اور مخدوم الملک غلام میراں شاہ (سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے دادا، بہاول پور کے وزیر اعلیٰ مخدوم حسن محمود کے والد اور سابق وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے نانا) کو وزیر مہاجرین بنایا گیا۔نواب آف بہاول پور کی ملکیت کراچی (ملیر) میں واقع شمس محل جو ۴۵ ایکڑ پر واقع تھا، گورنر جنرل قائد اعظم کی نجی رہائش گاہ بنا دیا گیا۔
۳ ۔ اکتوبر ۱۹۴۷؁ء کو نواب آف بہاول پور نے پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے ،جس دستاویز کی تیاری کے لیے قائد اعظم نے نواب آف بہاولپورکو اپنی مرضی کی شرائط پر معاہدہ تیار کرنے کے لیے کہا۔ قائد اعظم نے اس معاہدہ پر ۵ اکتوبر ۱۹۴۷؁ء کو دستخط ثبت کیے۔ اس طرح ریاست کو یہ اعزاز حاصل ہو ا کہ وہ پاکستان میں شامل ہونے والی سب سے پہلی ریاست تھی۔
۱۴ اکتوبر ۱۹۴۸؁ء کو نواب آف بہاول پور اور خواجہ ناظم الدین گورنر جنرل کے درمیان ایک اور معاہدہ الحاق دستخط کیا گیا، جس کے تحت ریاست کے دفاع، بیرونی معاملات اور مواصلات کے سلسلہ میں قانون سازی کا اختیار حکومت پاکستان کو دیا گیا۔ وزیرِاعظم پاکستان لیاقت علی خان کے مشورے پر نواب صاحب نے ۱۹۴۹؁ء میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کرا کے اختیارات عوامی نمائندوں کے سپرد کر دیے اور مخدوم حسن محمود (سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے والد) ریاست کے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اس موقع پر لیاقت علی خان نے بہاول پور آکر بہاول پور کی صوبائی حیثیت کا باقاعدہ اعلان کیا۔ ۳۰ ۔اپریل ۱۹۵۱؁ء کو حکومت پاکستان اور نواب سر صادق کے درمیان ایک اور معاہدہ پردستخط کیے گے، جس کے تحت ریاست کو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵؁ء کے تحت صوبائی حیثیت دی گئی۔۱۹۵۵ ؁ء میں جب تمام صوبوں اور ریاستوں کو ملا کر ون یونٹ (صوبہ مغربی پاکستان) بنایا گیا تو نواب صاحب نے بھی اپنی ریاست صوبہ مغربی پاکستان میں ضم کر دی۔
ون یونٹ میں شامل ہوتے وقت ریاستی ملازموں کی تعداد چالیس ہزار سے زائد تھی۔ ون یونٹ میں شامل ہوتے وقت بہاول پور کی آمدنی ۲۰ کروڑ روپے تھی۔ (جب کہ اس وقت سونے کا ریٹ ۸۰ روپے فی تولہ تھا، جو کہ آج کے حساب سے ۸۰ ارب روپے بنتی ہے)۔معاہدۂ انضمام کے وقت نواب آف بہاول پور نے وزیر اعظم محمد علی بوگرہ سے کہا کہ اگر آپ مجھے یقین دلائیں کہ آپ میرے ۳۰ لاکھ عوام کے بہتر کسٹوڈین ثابت ہوں گے تو میں اپنی ریاست کے ۳۰۰ سالہ اقتدار سے دستبردار ہونے کو تیار ہوں۔ اس پر وزیر اعظم محمد علی بوگرہ نے کہا کہ His Highness نہ صرف بہترکسٹوڈین ثابت ہوں گے،بلکہ بہاولپور سے ہمیشہ ترجیحی سلوک کیاجائےگا۔اس بات پر نواب صاحب نے بغیر پڑھے معاہدہ پر دستخط کردیے۔
مذہبی اور مسلکی رواداری:
1727؁ء سے 1955؁ْ؁ ء تک قائم رہنے والی بر صغیرپاک وہند کی دوسری بڑی اسلامی ریاست بہاول پورمیںہر دور میں اور ہر اعتبار سے اسلامی تہذیب وتمدن کا نمونہ تھی۔ ریاست کے باشندوں کے درمیان بِلا تخصیصِ رنگ ونسل اور مذہبی رواداری کا رشتہ قائم تھا۔یہ اسلامی ریاست دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق پوری مذہبی آزادی عطا کرتی تھی۔ بھائی چارہ، مذہبی رواداری اور امن وامان اس اسلامی ریاست کا خاصہ تھے۔یہ ریاست اسلامی تہذیب وتمدن کا نمونہ اور امن کا گہوارہ تھی جہاں بلاتخصیص رنگ ونسل اور مذہب رواداری کا ایسا لازوال رشتہ قائم تھا، جہاں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان تعصب تو دور کی بات ہے، ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان جو رواداری دیکھنے میں آتی تھی، فی زمانہ ناپید ہے۔ اسی مذہبی رواداری کے پیش نظر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم خاندان بھی ریاست میں آ کر نہ صرف آباد ہوئے بلکہ مطمئن زندگی گزارتے رہے۔ریاست کی تعمیر وترقی میں مسلمانوں اور غیر مسلموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
زندگی کے ہر شعبہ میں مسلم اور غیر مسلم اکٹھے کام کرتے نظر آتے۔تعلیمی ادارے ہوں یا دفاتر، نجی محافل ہوں یا تہوار سب ایک دوسرے کا احترام کرتے نظر آتے۔ شادی بیاہ اور غمی کی محفلیں ہوں یا سرکاری تقریبات مسلم اور غیر مسلم اکٹھے نظر آتے۔ اگر غیر مسلموں کی بارات کسی مسجد کے قریب سے گزرتی تو احترام میں بینڈ باجے بند کر دیے جاتے۔ عیدین کے موقع پر ہندو حلوائی قسم قسم کی مٹھائیاں تیار کرتے۔
مذہبی تقریبات اور تہواروں میں ایک دوسرے کا احترام ملحوظِ خاطر رکھا جاتا۔ جس طرح مسلمان ملازمین کو حج کے موقع پر چھٹی اور پیشگی تنخواہ دی جاتی ، اسی طرح ہندوؤں اور سکھوں کو بھی ان کے تہواروں کے موقع پر چھٹی اور پیشگی تنخواہ دی جاتی تھی۔
نواب سر صادق کے عہد میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان کبھی کوئی تنازعہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ جمعہ کی نماز ہو یا عیدین سب ایک ہی شاہی خطیب قاضی عظیم الدینؒ کی امامت میں ادا کرتے نظر آتے۔ میلاد النبیﷺ کی محفل ہو یا شبِ معراج، ہر مکتبہ فکر کے لوگ جامع مسجد الصادق میں اکٹھے ہوتے ۔ ان محافل میں نواب سر صادق بذاتِ خود بھی تشریف لاتے۔
اگر کوئی اہم مذہبی مسئلہ پیش آتاتو اس کے حل کے لیے تمام علماء کا متفقہ اجلاس بند کمرے میں منعقد کیا جاتا اور جس بات پر سب متفق ہوتے، اسے قانون کا درجہ دیا جاتا۔ عوام میں مذہبی منافرت پھیلانے کی بالکل اجازت نہ تھی۔
صادق ایجرٹن کالج بہاول پور کی بنیاد رکھی گئی تو جگن ناتھ کالج ڈھاکہ کے بنگالی ہندو پروفیسر بابو پرسنا کمار بوس کو اس کا پہلا پرنسپل تعینات کیا گیا۔ اسی طرح پروفیسر لالہ رام رتن کالج کے قیام کے وقت ہی ریاضی اور تاریخ کے پروفیسرمقرر ہوئے۔
جسٹس مہتہ اودھو داس بہاول پور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور وزیرِ قانون رہے۔ اپنی انصاف پسندی کی وجہ سے مسلم ، غیر مسلم سب میں مقبول تھے۔انہوں نے پُرخطر وقت میں بہاول پور اور نواحِ بہاول پور کے انتظامات کو بحال رکھنے میں محنت سے کام کرنے کا قابلِ تقلید نمونہ قائم کیا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے تہواروں پر ان کے مکان پر عوام الناس کارش دیکھنے میں آتا۔
پنڈت لعل جی پرشاد سینئر وزیر رہے ۔وہ لوگوں کو فوری انصاف مہیا کرنے کے لیے رات گئے تک دفتری کام جاری رکھتے اور اس سلسلے میں اپنے آرام وسکون کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ان کی وفات پرحکومتِ بہاول پور نے ان کی خدمات کے اعزاز میں لعل جی سرائے اور لعل جی تالاب بنوائے۔
دیوان آسانند، جسٹس فتح چند، اور بہاول پور کے تاریخی ادارے صادق ڈین ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر چمن لال جتانہ کا شمار ریاست کی ہر دلعزیز شخصیا ت میں ہوتا ہے۔ چمن لال جتانہ انگریزی کے ماہراستاد اور بہترین منتظم تھے۔ ہندو مسلم طالب علموں سے یکساں شفقت مظاہرہ کرتے۔ پگڑی اور شیروانی پہنتے تو کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ ہندو ہیں یا مسلم؟ ہر سال میٹرک کے پاس آؤٹ ہونے والے طالب علموں کے لیے الوداعی تقریب (Farewell party) کے موقع پر ہیڈ ماسٹر صاحب ۲۰ سنہری باتیں (Golden Maxims) بہترین پائیدار کاغذ پر شائع کروا کر ہر طالب علم کو اپنے دستخطوں کے ساتھ بطور تحفہ عنایت کرتے ۔
الغرض نواب سر صادق کا بہاول پور ایک ایسا خطۂ اُلفت تھا جہاں شیر بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے۔ ہر طرف امن کا دور دورہ تھا۔ باشندگانِ ریاست ایک دوسرے کا احترام کرتے دکھائی دیتے۔
منی پاکستان:
اگر ہم ذرا سوچیں تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ برصغیر میں اُس وقت بھی ایک خطہ ایسا موجودتھا جو نظریہ پاکستان کے تقاضے پورے کر رہا تھایعنی مشرقی اقداراور تہذیب، اُردو کی ترویج واشاعت اور اسے سرکاری و دفتری زبان کا درجہ حاصل ہونااور اس کے علاوہ اس خطے میں ایک ایسی مکمل اسلامی ریاست موجود تھی جو دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اسلام کے اصولوں کے عین مطابق پوری مذہبی آزادی عطا کرتی تھی۔ ۱۷۲۵؁ء سے ۱۹۵۵؁ء تک ۲۳۰ سال قائم رہنے والی برصغیر پاک و ہند کی دوسری بڑی اسلامی ریاست صحیح معنوں میں ’’دارالسرور‘‘ تھی۔
افسوس! ہم سے ہماری روایات چھین لی گئیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس مِنی پاکستان میں رائج قوانین اور نظامِ حکومت کو Larger Scale پر پاکستان میں نافذ کر کے نظریہ پاکستان کو پایہء تکمیل تک پہنچایا جاتا مگر اس خطے کا تشخص بھی ختم کر دیا گیا۔ ریاست کی خوشحالی کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست بہاول پور میں جونئیر کلرک کی کم از کم تنخواہ ایک تولہ سونا کے برابر تھی۔ ۱۹۷۰؁ء میں تحریکِ بحالی صوبہ بہاول پور کے دوران خطیب العصر حضرت قاضی عظیم الدین رحمۃاللہ علیہ نے جامع مسجد الصادق میں تاریخی خطبہ جمعہ دیتے ہوئے، اس حقیقت پر زور دیا تھا کہ ہم صوبہ بحالی کی تحریک اس لیے چلا رہے ہیں کہ ہم اپنا تشخص اوراپنی پہچان بحال کرا سکیں۔ یہ خطہ پاکستان سے قبل مِنی پاکستان تھا۔ اور بہاول پور ایک مکمل اسلامی، خوشحال ، فلاحی اور جدید ریاست سر صادق کی بہترین حکمتِ عملی اور اعلیٰ صلاحیتوں کی بدولت تھی۔علامہ اقبالؒ بطور قانونی مشیر ریاست بہاول پور میں پہلی بار تشریف لائے تو اپنا یہ شعر سر صادق کی نذر کیا:
؎زندہ ہیں تیرے دم سے عرب کی روایتیں
اے یادگارِ سطوتِ اسلام! زندہ باد
حُبِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم:
نواب صاحب نے ۱۹۳۱؁ء میں سفرِ حج کیا اور مدینہ طیبہ میں حاضری کے موقع پر رسولِ پاکؐ کی سیرۃ پر ’’رسولِ صادق صلی اللہ علیہ والہ وسلم ‘‘ کے نام سے کتاب تحریر فرمائی، جس کا اردو ترجمہ مولانا عبدالعزیز شرقی نے مطبوعہ مرکزِ اشاعتِ سیرت جالندھر سے شائع کیا۔ روضہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر حاضری کے موقع پر نواب صاحب نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں انگریزی زبان میں “EULOGIUM” کے عنوان سے نظم کہی۔ یہ انگریزی نعت معروف مؤرخ، مترجم ، صحافی اور شاعر مولانا حفیط الرحمٰن حفیظؔنے ۱۹۳۳؁ء میں شائع ہونے والے اپنے سفرنامہ ’’سفرنامۂ حجاز‘‘ کے آخر میںشامل کی ہے۔ یہ نعت اصل انگریزی متن اور اردو ترجمہ کے ساتھ پیشِ خدمت ہے:
EULOGIUM
1- Thy honoured name hath drawn to me to these Holy Lands.
2- At last I’ve come hopeful with out-stretched hands.
3- Through strange lands so various and over many a sea.
4- O wonderful one Allah’s well loved I have come to thee.
5- Journeying through the rocky mountains, the scorching head and sand.
6- Now before thy Holy Shrine I in humiliation stand.
7- And to gain from thy light of kindness a little spark.
8- To ever guide and light me if I ever stumble in the dark.
9- O Prophet kind it is for thee, to say and I thy slave shall abide.
10- But oh do not send me away, disheartened from thy side.
11- Though times good and bad have come and gone.
12- Always thee and only thee for help I’ve looked upon.
13- My prayers and supplications varies though they be.
14- Are all uttered with hope, expectations, trust and sincerity.
اُردو ترجمہ:
’’وہ خاکِ بطحا سے سعادت کا امین ہو کر اٹھا تھا۔ وہ جس نے علم بردارِ حق بن کر اور سپہ سالارِ دین ہو کر کوس لمن الملک شش جہاتِ عالم میں بجایا تھا۔ میں آج اس مقدس سرزمین میں اپنے اخلاص اور عقیدت کے پھول چڑھانے آیا ہوں اور اپنے دامن میں اُمیدوں کی ایک دنیا لیے ہوئے ہوں۔
اے گنبدِ خضراء! تجھے معلوم ہے میں کس ماحول سے آرہا ہوں، وہ بہت عجیب ماحول ہے، عجیب! میں سنگلاخ وادیوں سے گزرا ہوں، آتش بارگری برداشت کی ہے، تپتے ہوئے صحرا سے گزرا ہوں تاکہ انوارِ قدسی کے ایک ادنیٰ شرارے سے بہرہ اندوز ہوسکوں جو کشمکشِ حیات میں میرے لیے شمعِ ہدایت کا کام دے سکے۔
اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم! میں تیرا ہی دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں۔ ابتلا اور آزمائش کی گھڑیوں میں میری مدد کر۔ میں نے ہمیشہ تیرا ہی سہارا ڈھونڈا ہے۔مجھے مایوس نہ کر۔ گو میری دعاؤں اور میرے معروضات میں تنوع اور اختلاف ہوتا ہے لیکن ان کے محرک محض یقین اور صداقت کے جذبات ہوتے ہیںاور ان کے سوا کوئی جذبہ میرے قلب میں کارفرما نہیں ہوتا۔‘‘
وفات حسرت آیات:
نواب سر صادق نے ۲۴ مئی 1966؁ء کو لندن میں اپنی رہائش گاہ سرے کاؤنٹی میں انتقال کیا اور ان کا جسدِ خاکی پاکستان لایا گیا۔اس روز ہر آنکھ اشک بار تھی۔ میاں عبدالغنی صاحب علامہ شمس الحق افغانی ؒ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ ’’نماز جنازہ سے واپسی پر فرمانے لگے کہ عبدالغنی! یہ نواب صاحب کیسے آدمی تھے! میں نے آج انسانوں کے ساتھ ساتھ پرندوں اور حیوانوں کو بھی روتے دیکھا ہے‘‘۔
ڈیرہ نواب صاحب کی عید گاہ میں خطیبِ ریاست حضرت قاضی عظیم الدین علویؒ نے نمازِجنازہ پڑھائی اور نواب صاحب کی میت کو21 توپوں کی سلامی دی گئی اور پاکستان آرمی کی توپ گاڑی میں پورے فوجی اور سرکاری اعزاز کے ساتھ قلعہ ڈیراورلے جایا گیا، جہاں شاہی قبرستان کے اندر مقبرہ نوابین میں دفن کیا گیا۔پورے ملک میں قومی سوگ کا اعلان کیا گیا اور قومی پرچم سرنگوں رہا۔
{اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رٰاجِعُوْن}
؎آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہّ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے