فلیگ شپ ریفرنس میں بری، العزیزیہ میں 7 سال قید، نوازشریف کمرہ عدالت سے گرفتار


Sajjad Bhutta Posted on December 24, 2018

اسلام آباد: احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بری کرتے ہوئے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنادی، جس کے بعد انہیں کمرہ عدالت سے حراست میں لے لیا گیا۔
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے ریفرنسز پر فیصلہ سنایا، سابق وزیراعظم نواز شریف فیصلہ سننے کے لیے خود بھی عدالت میں موجود تھے۔
عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں کیس نہیں بنتا، اس لیے نواز شریف کو بری کیا جاتا ہے۔
احتساب عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں کافی ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور نواز شریف منی ٹریل نہیں دے سکے، لہذا انہیں 7 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔
عدالت کے زبانی حکمنامے میں نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی، واضح رہے کہ عدالت حسن اور حسین نواز کو عدم حاضری پر پہلے ہی اشتہاری قرار دے کر دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرچکی ہے۔
سزا سننے کے بعد نواز شریف نے احتساب عدالت سے درخواست کی کہ انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا جائے۔
نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے نواز شریف کی درخواست کی مخالفت کی گئی، تاہم عدالت نے سابق وزیراعظم کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔
اس موقع پر نیب ٹیم اور نواز شریف کے درمیان مکالمہ ہوا اور سابق وزیراعظم نے نیب کے ساتھ اڈیالہ جیل جانے سے انکار کردیا۔
نواز شریف نے نیب ٹیم سے پوچھا کہ کہاں لے کر جارہے ہیں جس پر نیب ٹیم نے کہا پہلے اڈیالہ لے کر جائیں گے اور کل صبح کوٹ لکھپت لے جایا جائے گا۔
نیب کے جواب کے بعد نواز شریف نے نیب کی ٹیم کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔
احتساب عدالت کے باہر لیگی کارکنوں اور سینئر رہنماؤں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی، جن میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، احسن اقبال، مرتضی جاوید عباسی، رانا تنویر، راجا ظفر الحق، مشاہد اللہ خان اور خرم دستگیر سمیت دیگر شامل تھے۔
اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے، احتساب عدالت کے اطراف پولیس کے ایک ہزار اہلکار تعینات رہے جبکہ کمرہ عدالت میں نواز شریف کو کلوز پروٹیکشن یونٹ سیکیورٹی فراہم کی گئی۔
ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے رینجرز بھی موجود رہی جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں نے عدالت کے اطراف چیکنگ بھی کی۔
نواز شریف کی آمد کے موقع پر جی الیون سگنل پر لیگی کارکنوں اور پولیس میں تصادم اور دھکم پیل ہوئی، جبکہ پولیس کی جانب سے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے گئے۔
سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت آمد کے موقع پر ان کی گاڑی کو لیگی کارکنوں نے گھیر لیا، نعرے بازی اور پھول بھی نچھاور کیے۔