سب سے پہلےمعیشت کی درستگی


Faizul Hassan Posted on August 02, 2018

ابھی 2018کےعام انتخابات کےنتائج کا ٹھیک سے اعلان بھی نہ ہونے پایا تھا کہ ڈالرکےمقابلےمیں روپےکی قیمت کی واپسی تیزی سے شروع ہوگئی۔یاددلادوں کےانتخابات سےقبل ڈالر کےمقابلےمیں روپئیہ ایک سوبتیس کی رقم کوچھو چکا تھا۔ تب روپے کی قیمت کے ایک سو پچاس تک پہنچنے کی خبریں گونجنے لگی تھیں۔ اس سب کی بناء پر مہنگائی کےگراف کاعمودی سمت میں اوپرکی جا نب بڑھنا کوئی اچنبھے والی بات نہ تھی۔ اوراب جبکہ روپے کی قیمت کا فی حد تک واپس ہو چکی ہے، بڑھی ہوئی مہنگا ئی جو ں کی تو ں اپنی جگہ جمی کھڑی ہے۔گو یا عوام ا لنا س کے لیئے یہ معیشت کا کبھی نہ سمجھ میں آ نے والا گورکھ دھندہ ہے۔ اوپرسےاس موقع پرمنی چینجرزکی بلیک مار کیٹینگ ملاحظہ فرمایئےکہ وہ آخری اطلاعات کےآ نے تک امریکی ڈالرخرید توایک سوسترہ روپے میں رہے تھے، مگر فروخت ایک سو تیئس رو پے میں کررہے تھے۔ یہا ں تک کہ ایک وہ وقت بھی آیا تھا کہ ڈا لرایک سو گیا رہ رو پے میں خریداجارہاتھا،اورفروخت ایک سوتیئس روپےمیں کیا جا رہا تھا۔یہ ہیں وہ حالات جن کے تحت یہ خدشہ ظاہر کرنا بے جانہ ہو گا کہ نئی حکومت کو سیاسی مسائل کا سامنا ہوتا ہے یا نہیں البتہ اسےمعاشی واقتصادی مسائل کا سامنا لازمی ہوگا۔

ملکی معیشت کی صورت حال اچھی نہیں ہے، تحریک انصاف کے اسلام آباد سے نومنتخب رکن قومی اسمبلی اسدعمرنے بھی کہا ہے کہ حالیہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم میں ڈیڑھ ماہ میں چھ سات کروڑ ڈالر سے زیادہ کا زرمبادلہ نہیں ملا جبکہ پاکستان کو ماہانہ 2 ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے لہٰذا ایمنسٹی سے ڈیڑھ دن کا خسارہ بھی پورا نہیں ہوتا ۔ا سد عمر کے مطا بق پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس بیل آئوٹ پیکیج کے لیے جانا پڑے گا۔ معیشت پر جس چیز کے سب سے زیادہ صنعتی اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ ہے غیریقینی کی صورتحال جس کے بارے میں یہ علم نہ ہو کہ معاملات پر اختیارات کس کا ہے۔ حالیہ دنوں میں ڈالر کی روپے کے دونوں جا نب لمبی اوراو نچی چھلا نگیں اس کانا قابلِ ترد یدمظہر ہیں۔ صاحب اختیار کے اہداف کیا ہیں اوروہ اپنی ترجیحات کیسے مرتب کریں ؟یہ وہ تمام سوالات ہیں جنہوں نے پاکستانی معیشت کا احاطہ کر رکھا ہے اور ان حالات کو اب پوا ایک سال مکمل ہونے کو ہے۔ غیر یقینی صورتحال گزشتہ جولائی میں شروع ہوئے جن کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی لانے کا آغاز ہوا جس کے نتیجےمیں معاشی مشکلات بڑھنا شروع ہوئیں، پھر سابق وزیر خزانہ کی جگہ ایک نئی اقتصادی ٹیم متعین کردی گئی جس نے معیشت میں مزید تبدیلیاں کیں اور دسمبر میں پاکستانی روپے پر ڈالر کا غلبہ اور زیادہ بڑھ گیا۔

اس دوران اگلے بجٹ کی تاریخ نزدیک آنے لگی۔ لیکن دوسری طرف غیر یقینی صورتحال کے باعث تمام کام ٹھپ ہوتا نظر آنے لگا۔چنا نچہ اس وقت پاکستانی معیشت کی جو صورتحال ہوگئی ہے اس پر قابو پانے کے لیے یقینا کسی ایسی مہا ر ت کی ضرورت ہے جس میں بغیر مز ید کو ئی خطر ہ مو ل لیئے و طنِ عز یز کو اس کے معا شی مید ا ن میں وا پس اپنے پا ئو ں پہ کھڑا کیا جا سکے۔ کو ئی وجہ نہیں کہ پا کستا ن میں ایسے معا شی ما ہر ین مو جو د نہ ہوں۔ بات ہے انہیں مو قع دینے کی۔ ۔ اگر دنیا بھر کی معیشت پر قابض سرمایہ کاروں کی کاریگری پر سرسری نظر ڈالی جائے تو انہوں نے بھی ایسے ایسے قوانین بنائے جن کے ذریعے انہوں نے دنیا بھر کی کرنسیوں کو اپنی بہتر ین حکمتِ عملی سے اپنے پا ئو ں پہ لا کھڑا کیا۔

اب بھلا اس بات کی کوئی منطق ہوسکتی ہے کہ قیام پاکستان کے وقت روپیہ اور ڈالر تقریباً برابر کی کرنسیاں تھیں لیکن اب گزرے سالوں میں پاکستان کا روپیہ ڈالر کے مقا بلے میں ایک سو بیس اور ایک سو پچیس کی قیمت میں نظر آ ر ہا ہے۔ ڈالرکی قیمت میں اضافےاورپاکستانی روپےکی قدرمیں کمی سے پلک جھپکنے میں اس مملکت خداداد پر اربوں کی مقدار میں بیرونی قرضے میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ہمارے بیشتر قارئین کرام کو شاید اس چالاکی کاعلم ہی نہ ہوکہ دیگرملکوں کوقرضےمیں جکڑنےکے لیےمغربی ماہرین اقتصادیات نے باقا عد ہ ایسے پر و گر ا م تر تیب دیئے ہو ئے ہیں، جن کے تحت ان کے خصو صی نما ئندے ترقی پزیرملکوں میں بطورخاص بھیجے جاتے ہیں کہ جائواوران کی نئی حکومت کو قرضے کے فوائد اورمراعات سے آگاہ کرکے ان کا لالچ بیدار کرو اورایک دفعہ وہ ہمارے شکنجے میں آجائیں تو پھر ہماری خون آشام مکڑیاں ان کاخون چوستی رہیں گی اوروہ کبھی ہمارے چنگل سے آزاد نہ ہوسکیں گے۔

ا فسوس درافسوس کےساتھ لکھنا پڑرہا ہےکہ جس ملک میں اسحق ڈاروں کو نہ صرف اوپرآجا نے کا موقع فراہم کیاجائے، بلکہ ان کی بداعمالیوں پہ انگلی اٹھا نے کو گناہِ کبیرہ قراردے دیا جا ئے، وہا ں حالات کے یوں د گر گوں ہوجا نے پہ کو ئی حیرانگی کی با ت با قی نہیں رہتی۔ ا سحق ڈ ارنے اس ملک کی معیشت کو جس طرح کی بے یقینی سے دو چارکیا،اس کی بناءپریہاں بیرونی مما لک کے سرما یہ کاروں نے سرمایہ کا ری کر نے سے ہا تھ کھینچ لیا ہے۔ لہذا اب ملکی معیشت کی بحالی کی غرض سے سب سے پہلے ہمارے ذمہ داروں کو یہا ں سےغیر یقینی کی فضا ختم کرنا ہوگی۔ عوام کا اورکاروباری حضرات اورتاجروں وغیرہ کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ معیشت کی ترقی کے لیے اس کی سمت کا تعین کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھا نے کا وعد ہ کر تی د کھا ئی دے رہی ہے۔ اس حکومت میں پُرخلوص اورمحب وطن ماہرین بھی موجود ہیں جن کو یہ مشکل کام نتیجہ خیز بنانے کے لیے سوچا جاسکتا ہے۔ اب جبکہ تازہ خبروں میں ڈالر کی قیمت میں تھوڑی کمی اور روپے کی قدر میں تھوڑے اضافے کی شنید ہے۔ اللہ کرے یہ بات درست ہو تو اس سمت میں مزید کوشش جاری رکھی جاسکتی ہے جو یقینا نتیجہ خیزثابت ہوگی۔ ڈالرکی قیمت میں نمایاں کمی سے تمام اشیاء ضرورت کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں، لہٰذااس طرف پوری طاقت لگادینی چاہیے۔ اقتصادی معاملات پر اب جس شخص کو بٹھایا جائے وہ وزارتِ مالیات کے تمام افسروں اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذمہ داروں سے مثبت ملاقاتیں کرے اورمسائل کاحل نکالےملک میں مہنگائی اور بے روزگاری نے نچلے طبقے کے خاندانوںکوخودکشی کےدہانے پہ تولاکھڑاکیاہی تھا،تاہم اس کےساتھ متوسط طبقےکی حالت پتلی کردی ہے۔ خوشحال اورمتمول طبقےکےلیےتوشایدمسائل اتنے زیادہ نہ ہوں لیکن نچلے تنخواہ داراورچھوٹےکاروباری طبقے کے لیےحالات انتہائی ابترہوچکے ہیں۔ حالت یہ ہےکہ ہمارے ڈاکٹرزاورانجینئرز تک بےروزگار ہیں اورہماری معیشت میں اتنی وسعت نہیں کہ وہ ان قابل نوجوانوں کو اپنے اندر سموسکے۔ آنے والی نئی حکومت کو اپنی اولین توجہ ملکی معیشت پر دینی چاہیے تاکہ ملک اپنے پیروں پرکھڑاہوسکےدرست کہ نئی
حکومت کے لیئے اہم مسلئہ ہمسا یہ مما لک سے تعلقات کا بھی ہے، لیکن سب سے پہلےاسےاس ملک کے نوجوانوں کے لیئے روزگارکےمواقع پیدا کرنے پہ توجہ دینا ہوگی۔