بھارت کا ایک سفر


Faizul Hassan Posted on April 24, 2018

میری عمر کے پاکستانیوں نے جب ہوش سنبھالا اور برعظیم کی تاریخ کا مطالعہ کیاتوعمر کے ساتھ، جوں جوں مطالعہ وسیع ہوتاگیا،بھارت میں مسلم آثار کو دیکھنے کا شوق بھی بڑھتاگیا کیوں کہ مسلمانوں نے ہندوستان پر اپنے سیکڑوں سالہ دورِ حکومت میں یہاں کے چپے چپے پر اپنی تہذیب وثقافت اورحکمرانی کے نقوش ثبت کیے۔ قلعے،مسجدیں،مقبرے،مزار، محلات، عمارات، کنویں اور باولیاں،سڑکیں اورشاہراہیں،پھررسوم ورواج، ادب وآداب، طوراطوار، لباس اور پوشاک، کھیل اور تماشے، میلے ٹھیلے۔ غرض زندگی کاکوئی شعبہ ایسا نہیں جو اب بھی مسلمانوں کے اثرات سے خالی ہو۔ انگریزوں نے دلّی پرقبضہ مستحکم ہونے کے بعد مسلم عہد حکومت کی بہت سی عمارتوں،مسجدوں اور مقبروں کو گرا دیا، اس کے باوجود دلّی میں اب بھی مختلف ادوار کی چھوٹی بڑی بیسیوں بلکہ شاید سیکڑوں یادگاریں باقی ہیں۔ (گو،موجودہ بھارتی حکومت کی اشیر باد سے بعض لوگ اورپارٹیاں بابری مسجد کے انہدام کے بعد باقی آثار اور یادگاروں کو بھی مٹانے کے در پے ہیں۔ )
لیکن مجھ ایسوں کے لیے بھارت کے سفر میں طرح طرح کی رکاوٹیں اورمجبوریاں حائل رہیں اور ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد اُن پابندیوں میں مزید اِضافہ ہوتاگیا۔
کئی سال بعد۱۹۸۶ء میں اقبال اکیڈمی حیدرآباد دکن کی طرف سے عالمی اقبال سیمی نار میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ اس پہلے دعوت نامے کے بعد، ایک ایک دو دو سال وقفوں سے ادبی کانفرنسوں اورسیمی ناروں کے دعوت نامے ملنے لگے۔ ۱۹۸۶ء سے اب تک تیس اکتیس برسوں میں تقریباً تیس دعوت نامے ملے ہوں گے جو مختلف شہروں سے تھے۔ دہلی، علی گڑھ،احمدآباد، حیدرآباد، پٹنہ، کلکتہ، بنگلور، رائے بریلی،اعظم گڑھ اورلکھنؤمگر افسوس ہے کہ میں صرف دوبار بھارت جاسکا۔ اور ان دوسفروں میں بھی صرف تین ہی شہروں (دہلی، حیدرآباداوربھوپال) کی زیارت کرسکا۔ سب سے زیادہ قلق سری نگر نہ جاسکنے کا ہے۔
سری نگر کے ذکر سے تصور میں کشمیر کی وادیوں، کوہساروں اور جھیلوں کی تصویریں بننے لگتی ہیں اور اقبال کا یہ شعر ذہن میں گونجنے لگتا ہے :
پانی ترے چشموں کا تڑپتا ہوا سیماب
مرغانِ سحر تیری فضائوں میں ہیں بے تاب
دراصل نادیدہ کے تصور میں بھی ایک رومان ہوتا ہے۔ ’’ آتش چنار‘‘ کا نظارہ تو ہم نے ایبٹ آباد میں کیا اور باربار کیا۔ (یہ کئی سال پہلے کی بات ہے)مگر’’ وادیِ لولاب‘‘ کیسی ہو گی…؟شاید شمالی علاقہ جات کے بعض مناظر کی طرح…،مگر نہیں، ان سے فزدں تر۔ علامہ اقبال کو فقط ایک ہی بار کشمیر جانا نصیب ہوا مگر ان کی ساری عمر کشمیر کو’’کسی بہانے تمھیں یاد کرنے لگتے ہیں ‘‘کی کیفیت میں گزری ۔ کلامِ اقبال کوپڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ حینِ حیات کسی نہ کسی عنوان یا کسی نہ کسی حوالے سے(سا قی نامہ۔ کشمیر۔ غنی کاشمیری۔ ملا ضیغم لو لابی کی بیاض۔ آبِ ولر۔ آتشِ چنار ۔ وادیِ لو لاب۔ ایرانِ صغیر۔ سیاہ چشمانِ کشمیری۔ پیرکِ اندرابی ۔ ولر کے کنارے ۔ خطّۂ گل) وہ کشمیر کو یاد کرتے رہے۔
اقبال اکیڈمی کے مذکورہ بین الاقوامی سیمی نار میں سات حضرات (ڈاکٹر جاوید اقبال، پروفیسر مرزا محمد منور، ڈاکٹر جمیل جالبی،عبدالرؤف عروج،انتظار حسین،ڈاکٹر معین الدین عقیل اور راقم) مدّعو تھے مگر صرف عقیل صاحب اور راقم ہی شریک ہو سکے البتہ اقبال کاسیاسی کارنامہ کے مصنف محمد احمد خاں اورمعروف سیرت نگار مصباح الدین شکیل صاحبان اپنے طور پر حیدر آباد گئے تھے اور سیمی نار میں شریک ہوئے۔
۱۵؍اپریل۱۹۶۸ء:میں تقریباً نو بجے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا۔ پلیٹ فارم پُرہجوم اور افراتفری ۔ مسافر زیادہ، جگہ کم۔ برادرم تحسین فراقی اپنے ایک دوست فاضل صاحب کو ساتھ لائے تھے۔ ان کی وساطت سے امیگریشن اور کسٹم کے مراحل آسان۔ پاسپورٹ پر Exitکی مہرلگنے کے بعد،میں ریل کے درجۂ اوّل میں بیٹھ گیا۔ سامان ایک درمیانے سے اٹیچی اور کتابوں کے دوکارٹنوں پرمشتمل تھا۔ ساڑھے گیارہ بجے مسافر آنابند ہوگئے۔ لوگ مع سامان بہت آچکے تھے۔ بچے اور بچیاں، جوان اوربوڑھے،باپردہ خواتین(بعض صرف بادوپٹہ)، ان کے ساتھ چھوٹے بڑے اٹیچی، گٹھڑیاں بلکہ بڑے بڑے گٹھڑ اور ساتھ ہی چیخ پکار، شوروغوغا،بہت ذہنی کوفت ہوئی۔ ٹی ٹی نے ازراہِ کرم مجھے متصل کوپے میں بٹھا دیا جو کسی سابق ریلوے افسر کے لیے مخصوص تھا۔ اس میں کل پانچ افراد تھے۔ ریل تقریباً ایک بجے روانہ ہوئی اورتین چار گھنٹے کایہ عرصہ اخبارات و رسائل پڑھنے، اونگھنے اور جمائیاں لینے (رات دیر سے سویا تھا اور صبح بہت جلد اٹھ گیا۔ سفر میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے) اورپلیٹ فارم پرآنے والے مسافروں کے مشاہدے میں گزرا۔
ریل،لاہور ریلوے اسٹیشن سے چلی توواہگہ سے آگے دائیںبائیں درختوں کے جھنڈ اورپکی ہوئی گندم کے سنہری کھیت دور تک چلے گئے تھے۔ ایک جگہ کھیتوں میںسُؤروں کے ریوڑ نظر پڑے۔ ریلوے افسر کی بیوی نے منہ بنا کر ناک کے آگے پلّو رکھ لیا۔ پتا ہی نہیں چلاکہ ہم حدودِوطن سے نکل کر بھارت میں داخل ہو گئے ہیں۔ تقریباً ایک گھنٹے میں ریل گاڑی اٹاری جاکھڑی ہوئی۔
بھارت کا یہ پہلا سفر تھا مگر بھارتی سرزمین پر،میں دوسری بار قدم رکھ رہاتھا۔
یہ الگ قصہ ہے:مختصر یہ کہ۱۹۶۵ء کی سترہ روزہ جنگ کے بعدجنگ بندی (ceasefire)ہوئی توبھارتی قصبہ کھیم کرن(بعض روایات کے مطابق مولاناابوالکلام آزادکی ولادت اسی قصبے میں ہوئی،مگراُن کے مدّاحین اس کی تردید کرتے ہیں۔ ) پاکستانی فوج کے زیرِ قبضہ تھا۔ ہمیں وہاں جانے اور گھومنے پھرنے کا موقع ملا۔ اب اٹاری اترتے ہوئے،گویامیں بھارت کی سرزمین پردوسری بارقدم رکھ رہاتھا۔ حکم ہوا:مسافر،ریل سے سامان اتار کرپلیٹ فارم پررکھ دیں،ریل خالی کردیں۔
دلّی سے لاہور آنے والی ریل ابھی نہیں پہنچی تھی۔
لمبی لمبی قطاریں ۔ پہلے گیٹ پاس،پھر نمبر لگا،پھر ہیلتھ کی مہر،ناواقفوں سے ۵،۱۰ روپے ہتھیا لیے۔ ایک جگہ پاسپورٹ کا اندراج، ۲۰ روپے رکھوا لیے۔ یہ سب’’ غیر سرکاری‘‘ فنڈ۔
ایک سردار جی سامان کی پڑتال کر رہے تھے۔ قطارمیں لگا،باری آئی تو کتابوں کے ڈبّے میز پر ان کے سامنے رکھ دیے ۔
’’کیہ اے ایِناں وچ؟‘‘
’’کتاباں۔ ‘‘
’’اچھا،کھولو،وِکھائو۔ ‘‘
وِیکھ کر کہنے لگے :’’اینیاں کتاباں؟‘‘
میں نے کہا :’’دوستاں لئی لے جا ریا واں،تحفہ تحائف اے ‘‘
کچھ ردو قدح کے بعد کتابیں ’’پاس ‘‘ہو گئیں ۔
مجھے مشفق خواجہ یاد آگئے ہیں ۔ شاید ۱۹۸۷ء میں مشفق خواجہ اور ان کی بیگم بھارت کے دورے پر گئے۔ تاریخی آثار دیکھنے کے ساتھ ساتھ وہ کتابیں بھی جمع کرتے رہے۔ کچھ تحفے میں ملیں بہت سی خریدیں۔ تقریبادس بارہ بوریاں کتابوں کی بن گئیں۔ اب یہ پاکستان لے جائیں تو کیسے؟ہوائی جہاز میں تو ہزاروں روپے خرچ ہو ں گے۔ فکر مند تھے مگر ڈاکٹر خلیق انجم نے انھیں اطمینان دلایا کہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ وہ خواجہ صاحب کو رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ دہلی کے اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر گئے۔