ایسا کیا ہوا جس نے چیف جسٹس کو نااہل وائس چانسلرز کے خلاف اقدامات کرنے پر مجبور کردیا؟


Faizul Hassan Posted on April 26, 2018

چیف جسٹس نے تباہ حال یونیورسٹیوں کا نوٹس لیا تو پتہ چلا کہ تقریباً ہر جگہ وائس چانسلرز اقربا پروری اور کمیشن کی بنیاد پر تعینات ہیں۔
جب پنجاب یونیورسٹی کے وی سی کی تلاشی لی تو پتہ چلا کہ موصوف نے یونیورسٹی کا 80 ایکڑ رقبہ گرڈ اسٹیشن کے لیے حکومت کو بیچ دیا ہے۔
ادویہ ساز کمپنیوں کا نوٹس لیا تو پتہ چلا وہ بھی سیاستدانوں کو پیسہ لگا کر سیمپل پاس کرواتے ہیں اور غیر معیاری ادویہ بناتے ہیں۔ ایموکسل،آگمنٹن، سینکوس سمیت 100 قسم کی ادویہ غیر معیاری نکلی۔
ہسپتالوں کا دورہ کیا تو پتہ چلا کہ تقریباً ہر ہسپتال کا MS اقربا پروری اور پیسے کی بنیاد پر تعینات ہوا۔اور ہسپتالوں میں مشینری تک موجود نہیں۔
میڈیکل کالجز کا نوٹس لیا تو پتہ چلا کہ 9 لاکھ فیس کی بجاۓ 30 سے 35 لاکھ فیس وصول کی جا رہی ہے۔اور کالج گیراجوں میں بناۓ گئے۔جبکہ تقریباً ہر میڈیکل کالج کسی سیاست دان یا سیاسی اثر رسوخ والے کا نکلتا۔
ریلوے کا نوٹس لیا تو پتہ چلا کہ اس کا خسارہ مزید سے مزید تر بڑھتا جا رہا ہے۔ مسئلہ پھر وہی سیاست دان۔
جب PIA کا نوٹس لیا تو پتہ چلا اس کا نقصان ہوش ربا حد تک اضافہ۔ جب کہ شاہد خاقان اور شجاعت عظیم کی ائیرلائینز عظیم سے عظیم تر۔
جب PIC کی چھان بین کی تو پتہ چلا کہ دل کی نالیاں کھولنے والا سٹنٹ جو اپنے ملک میں 15 ہزار میں تیار ہوسکتا ہے وہ باہر سے لاکھوں میں منگواۓ گئے۔
جب پنجاب انتظامیہ کو چیک کیا تو 56 کمپنیاں نکل آئیں۔ جن کے سربراہوں کو 15 سے 25 لاکھ کے درمیان تنخواہیں اور کروڑوں مالیت کی گاڑیاں دی گئی تھیں۔جب کہ چند ایک کے علاوہ باقی تمام کمپنیاں صرف کاغذوں تک محدود۔لیکن مراعات جاری۔عوام کی جیب سے۔
جب سیکورٹی پہ نوٹس لیا تو پتہ چلا کہ ہر سیاستدان نے عوام کی خدمت پہ مامور رہنے والے پولیس اہلکار اپنی خدمت پہ مامور کیے ہوۓ ہیں۔یہاں تک کے ان کی بیگمات کے لیے بازار سے سبزی وغیرہ اور بچوں کو سکول لانے لے جانے کے کام پہ مامور ہیں۔میاں صاحب کے محل کی سیکورٹی پہ 2200 اہلکار تعینات تھے۔جبکہ قانون کے مطابق سابق وزیراعظم صرف 15 گارڈز رکھ سکتا ہے۔
جب ترقیاتی کاموں پہ نوٹس لیا تو پتہ چلا کہ پارکوں کی جگہ پہ سڑکیں اور پلازے تعمیر کیے جارہے ہیں۔
بیوہ،غریب،یتیم،مسکین،مظلوم الغرض ہر وہ شخص جس نے پاکستان کے فرعون صفت حکمرانوں اور بیوروکریسی سے مایوس ہو کر اپنی فریاد چیف جسٹس تک پہنچائی اس نے سنی۔اس پہ نوٹس لیا اور اس کی دادرسی کی۔
یہ اوپر بیان کیے گئے چند ایک نوٹسز ہیں جو چیف صاحب نے لیے۔اور یہ سب عوام کے حقوق سے متعلق ہیں۔اس پہ اگر کسی کو تکلیف ہے تو کم از کم میں تو اسے انسان ہی نہیں سمجھتا۔کرپٹ تو بہت بعد میں آتا ہے۔اور جن جن طبقات کو چیف صاحب سے تکلیف ہے انہیں بھی آپ بخوبی جانتے ہیں۔
مسلم لیگ نون اور اس کے اتحادیوں کے لیے اس وقت عمران خان سے زیادہ خوف کی علامت چیف جسٹس صاحب ہیں۔کیونکہ اس بلا سے کیا ڈرنا جس کے آنے میں رات باقی ہو۔عمران کے آنے میں ابھی رات باقی ہے جبکہ چیف کی صورت میں آفت ان پہ مسلط اور سر پر کھڑی ہے۔
ہم چیف جسٹس کے انتہائی مشکور ہیں۔اور اپیل کرتے ہیں کہ ان نوٹسز کو انجام تک پہنچائے۔